یہ دستاویزات ابتدائی طور پر جاری کی جانے والی ایپسٹین فائلز میں شامل نہیں تھیں اور بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں غلطی سے عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے اب یہ گمشدہ فائلیں آن لائن جاری کر دی ہیں، جن میں ایف بی آئی کے تین انٹرویوز کے خلاصے اور نوٹس شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خاتون نے الزام لگایا ہے کہ جب وہ صرف 13 سال کی تھیں تو انہیں 1984 کے قریب ہلٹن ہیڈ آئی لینڈ میں جیفری ایپسٹین نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس خاتون کے دعوے کے مطابق اس واقعے میں ایپسٹین کے علاوہ چند دیگر افراد بھی ملوث تھے، جن میں ٹرمپ کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری Caroline Leavitt نے ان الزامات کو "بے بنیاد اور ناقابلِ اعتبار" قرار دیا ہے اور کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔
ایپسٹین فائلز میں نئے شواہد سامنے آنے کے بعد ٹرمپ کو سیاسی اور قانونی محاذ پر مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکا میں جنسی زیادتی اور انسانی حقوق کے حوالے سے حساسیت بہت زیادہ ہے۔
ایپسٹین کے خلاف جاری تحقیقات گزشتہ کئی سالوں سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہی ہیں اور ان میں سرمایہ کار کی مبینہ جنسی زیادتی کے کیسز، زیرِ عمر لڑکیوں کی نشوونما کے معاملات اور طاقتور افراد کی ملوث ہونے کی تحقیقات شامل ہیں۔ اب نئی فائلز میں صدر ٹرمپ کے نام کے ذکر کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کی فضائی اور بحری قوت تباہ کر دی، اس کو روکنا ہماری اولین ترجیح ہے: ٹرمپ
واضع رہے کہ اگرچہ الزامات کی تردید کی گئی ہے، تاہم ان کے منظرِ عام پر آنے سے ٹرمپ کی سیاسی ساکھ اور آئندہ انتخابات میں ان کے کردار پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
یہ تازہ ترین فائلز اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایپسٹین کیس میں ابھی بھی کئی دستاویزات اور شواہد منظرِ عام پر نہیں آئے، اور ممکنہ طور پر مستقبل میں مزید معلومات بھی افشاء ہو سکتی ہیں۔






