پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹس میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں اے، اے بی، بی سی، سی اور ڈی ٹریکس کے تحت دینے کی تجویز تیار کی ہے۔
ٹریک اے میں ٹیسٹ کرکٹرز کو شامل کیا جائے گا، جبکہ ٹریک اے بی میں ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس کھیلنے والے کھلاڑی شامل ہوں گے۔
ٹریک بی سی میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے وائٹ بال کرکٹرز کو رکھا جائے گا، جبکہ ٹریک سی صرف ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے مختص ہوگا۔ ٹریک ڈی میں ڈویلپمنٹ پروگرام اور اکیڈمی کے ایمرجنگ کرکٹرز شامل کیے جائیں گے۔
ٹریک اے کے کھلاڑی ریڈ بال اسپیشلسٹ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے کرکٹرز کو ماہانہ 40 لاکھ روپے دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
اے بی ٹریک میں شامل کھلاڑیوں کو ماہانہ 48 سے 50 لاکھ روپے تک دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اے بی ٹریک کے کھلاڑی سالانہ 5 کروڑ روپے سے زائد کما سکیں گے۔ اس ٹریک میں ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس کھیلنے والے کرکٹرز شامل ہوں گے۔
بی سی ٹریک میں شامل وائٹ بال کرکٹرز کو ماہانہ 18 لاکھ روپے سینٹرل کنٹریکٹ کی مد میں دیے جانے کی تجویز ہے۔
ٹریک سی کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 12 سے 15 لاکھ روپے تک ملنے کا امکان ہے۔ اس ٹریک میں صرف ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ کرکٹرز شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق ٹریک ڈی کے کھلاڑیوں کو ماہانہ 10 لاکھ روپے تک دیے جانے کا امکان ہے۔ اس ٹریک میں ڈویلپمنٹ پروگرام اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) کے کھلاڑی شامل ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کی میچ فیس الگ ہوگی۔ مجوزہ پلان کے مطابق فی ٹیسٹ میچ 15 لاکھ روپے، ون ڈے میچ کی فیس ساڑھے 7 لاکھ روپے اور ٹی ٹوئنٹی میچ کی فیس 5 لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، کھلاڑیوں کو آئی سی سی ایونٹ جیتنے پر میچ فیس کے 500 فیصد اور اے سی سی ایونٹ جیتنے پر میچ فیس کے 300 فیصد کے برابر بونس دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
سینٹرل کنٹریکٹ کے علاوہ کھلاڑی لیگ کرکٹ سے بھی آمدنی حاصل کر سکیں گے، جبکہ ہر ٹریک کے مطابق انہیں مختلف لیگز میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔





