ذرائع کے مطابق مستقبل کی منصوبہ بندی میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے ہی نعمان علی کو ریڈ بال کیمپ میں نہیں بلایا گیا، جب کہ آئندہ پانچ ٹیسٹ میچز کے لیے ابرار احمد اور ساجد خان پہلی ترجیحی اسپنرز ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ٹیسٹ کرکٹ کے لیے نوجوان اسپنرز کو آگے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ نعمان علی نے اپنا آخری ٹیسٹ مئی میں بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکا میں کھیلا تھا، جس میں انہوں نے چار وکٹیں حاصل کی تھیں، تاہم بعد ازاں انہیں سلہٹ ٹیسٹ سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب فاسٹ بولر نسیم شاہ کے ورک ایتھکس سے ٹیم کا تھنک ٹینک مطمئن نہیں ہے، اور شاہین شاہ آفریدی کی طرح نسیم شاہ بھی مستقبل قریب میں پاکستان کے ٹیسٹ منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق نسیم شاہ کو بھی آئندہ سیزن میں فرسٹ کلاس کرکٹ پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ نسیم شاہ نے اپنا آخری ٹیسٹ دسمبر 2024 میں جنوبی افریقا کے خلاف سنچورین میں کھیلا تھا۔