کینڈی میں کھیلے جا رہے اس اہم مقابلے میں سری لنکن کپتان نے قرعہ اندازی جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ قومی ٹیم نے مقررہ بیس اوورز میں آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہونے کے باوجود 212 رنز اسکور کیے۔ اس اننگز میں صاحبزادہ فرحان اور فخر زمان کی جارحانہ بیٹنگ نمایاں رہی۔

اہم میچ کے پیش نظر ٹیم میں چند تبدیلیاں کی گئیں اور بابر اعظم، صائم ایوب اور سلمان مرزا کو حتمی گیارہ کھلاڑیوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان کی جگہ نسیم شاہ، خواجہ نافع اور ابرار احمد کو شامل کیا گیا ہے۔

پاکستان کو سیمی فائنل میں رسائی یقینی بنانے کے لیے سری لنکا کو 147 یا اس سے کم اسکور پر آؤٹ کرنا ہوگا، ورنہ نیوزی لینڈ کی قومی کرکٹ ٹیم تین پوائنٹس اور بہتر اوسط رنز کی بنیاد پر سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔ اس گروپ سے انگلینڈ کی قومی کرکٹ ٹیم پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے جبکہ سری لنکا ایونٹ سے باہر ہو چکا ہے۔

فیصلہ کن معرکے میں پاکستان کی بیٹنگ سری لنکا کے خلاف جاری رہی اور قومی ٹیم کے لیے بڑے فرق سے فتح حاصل کرنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر بہتر اوسط رنز کی وجہ سے نیوزی لینڈ کو سبقت مل سکتی ہے۔ پوائنٹس جدول پر انگلینڈ کے چھ، نیوزی لینڈ کے تین، پاکستان کے ایک جبکہ سری لنکا کے کوئی پوائنٹس نہیں ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو کم از کم 65 رنز سے کامیابی سمیٹنا ہوگی یا پھر ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے اسے 13.1 اوورز میں مکمل کرنا لازمی ہوگا۔

پاکستان کی حتمی گیارہ رکنی ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، فخر زمان، سلمان آغا بطور کپتان، خواجہ نافع بطور وکٹ کیپر، عثمان خان بطور وکٹ کیپر، شاداب خان، محمد نواز، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، ابرار احمد اور عثمان طارق شامل ہیں۔

سری لنکا کی حتمی گیارہ رکنی ٹیم پاتھم نسانکا، کامل مشارا بطور وکٹ کیپر، چارتھ اسالنکا، پون رتھنائیکے، کمندو مینڈس، داسن شناکا بطور کپتان، جنت لیانگے، دونتھ ویلالاگے، مہیش تھیکشانا، دشمنتھا چمیرا اور دلشان مدوشنکا پر مشتمل ہے۔