23 سالہ زیدان اقبال عراق کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے والد پاکستانی جبکہ والدہ عراقی ہیں۔ مانچسٹر میں پیدا ہونے والے زیدان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے پاکستانی اور عراقی دونوں ورثوں پر یکساں فخر ہے اور وہ اپنے فٹبال بوٹس پر دونوں ممالک کے پرچم نمایاں رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے زیدان اقبال نے کہا کہ انہیں خود بھی یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ ورلڈ کپ میں کھیلنے والے پہلے پاکستانی نژاد فٹبالر بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ تک رسائی کی جدوجہد کے دوران انہوں نے کبھی اس پہلو پر غور نہیں کیا تھا، تاہم یہ اعزاز ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
Utrecht s former Manchester United midfielder Zidane Iqbal, representing Iraq, is poised to become the first player of Pakistani heritage to play in a men s World Cup.https://t.co/M1VBLxYvsS
— मानसी दाश (@Dash_Manasi) June 16, 2026
زیدان اقبال نے کہا کہ ان کے والد نے ان کے کیریئر میں اہم کردار ادا کیا اور وہ اپنے پاکستانی خاندان اور نسبت کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ عراق کے لیے کھیلتے ہیں، انگلینڈ میں پلے بڑھے ہیں، لیکن پاکستان سے ان کا تعلق بھی ان کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔
سابق مانچسٹر یونائیٹڈ کھلاڑی نے امید ظاہر کی کہ ان کی کامیابی نوجوان پاکستانیوں اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے بچوں کے لیے حوصلہ افزا مثال بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ محنت، لگن اور عزم کے ذریعے کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
پاکستانی فٹبال سے متعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارم "پاکستانی ٹیلنٹس" کے بانی احمد شہزاد کا کہنا ہے کہ زیدان اقبال پاکستان کے فٹبال شائقین کے لیے ایک بڑی تحریک بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستانی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی ہے، اس لیے زیدان اقبال کی ممکنہ ورلڈ کپ شرکت ملک بھر میں فٹبال سے وابستہ نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔
احمد شہزاد نے کہا کہ بہت سے پاکستانی شائقین ورلڈ کپ میں زیدان اقبال کی وجہ سے عراق کی حمایت کریں گے اور چاہتے ہیں کہ عراقی ٹیم ٹورنامنٹ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرے۔






