بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر میچوں کے دوران متنازع جھنڈے لہرائے جائیں یا ایرانی ٹیم کے خلاف سیاسی نوعیت کی نعرے بازی کی جائے تو کھیل کو فوری طور پر روک دیا جائے۔

ایران کے وزیر کھیل احمد دونیمالی نے کہا ہے کہ اس معاملے سے فیفا کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے، عالمی فٹبال تنظیم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایرانی ٹیم کے تمام میچوں کے دوران اسٹیڈیم کا ماحول پرامن اور محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے خاص طور پر ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں کھیلوں کے مقابلوں کے دوران سیاسی پیغامات یا احتجاجی سرگرمیاں سامنے آتی رہی ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں وینکوور میں ہونے والی فیفا کانگریس کے موقع پر بعض مظاہرین نے ایران پر ورلڈ کپ میں شرکت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ ایرانی قومی ٹیم ملک کے عوام کے بجائے ریاستی اداروں کی نمائندگی کرتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے قبل بعض انتظامی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں ایرانی شائقین کے لیے مختص ٹکٹس کی واپسی اور سفری انتظامات شامل ہیں۔

ایرانی اسکواڈ اس وقت تیجوانا میں قائم اپنے تربیتی کیمپ میں موجود ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹیم کو میچز سے قبل امریکا میں داخلے کی اجازت دی جائے گی اور مقابلوں کے بعد دوبارہ میکسیکو واپس جانا ہوگا۔

گروپ جی میں شامل ایران نیشنل فٹبال ٹیم اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ نیشنل فٹبال ٹیم کے خلاف کرے گی۔

اس کے بعد ایران اسی میدان میں بیلجئم نیشنل فٹبال ٹیم کا سامنا کرے گا، جب کہ گروپ مرحلے کا آخری میچ 26 جون کو سیٹل میں مصرنیشنل فٹبال ٹیم کے خلاف کھیلا جائے گا۔