یہ ورلڈ کپ فٹبال کی تاریخ کے کئی ایسے ریکارڈز کا گواہ بن سکتا ہے جو شاید دہائیوں تک برقرار رہیں۔ 48 ٹیموں، 104 میچز اور تین میزبان ممالک پر مشتمل یہ ایونٹ پہلے ہی ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ بن چکا ہے۔ تاہم شائقین کی اصل توجہ ان کھلاڑیوں اور ٹیموں پر مرکوز ہے جو تاریخ کا رخ موڑنے کے قریب کھڑے ہیں۔
کیا میسی اور رونالڈو ایک اور تاریخ رقم کریں گے؟
فٹبال کی گزشتہ دو دہائیوں پر اگر کسی دو ناموں نے حکمرانی کی ہے تو وہ ہیں لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو۔
ارجنٹائن کے لیونل میسی اور پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو اگر ورلڈ کپ 2026 میں اپنی قومی ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہیں تو وہ فٹبال کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے جو چھ مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں شرکت کریں گے۔
دونوں سپر اسٹارز نے 2006، 2010، 2014، 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ میں حصہ لیا تھا۔ 2026 میں میدان میں اترتے ہی وہ ایک ایسا ریکارڈ قائم کریں گے جو اس سے پہلے کسی کھلاڑی کے نام نہیں۔
یہ کارنامہ صرف لمبے کیریئر کی نشانی نہیں بلکہ دو دہائیوں تک عالمی سطح پر اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کا ثبوت بھی ہوگا۔
میسی مزید کتنے ریکارڈ توڑ سکتے ہیں؟
2022 میں قطر میں عالمی کپ جیتنے کے بعد لیونل میسی پہلے ہی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کئی بڑے ریکارڈ اپنے نام کر چکے ہیں۔
میسی سب سے زیادہ ورلڈ کپ میچز کھیلنے والے کھلاڑی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ منٹس میدان میں گزارنے اور بطور کپتان سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔
اگر وہ 2026 میں بھی میدان میں اترتے ہیں تو ان ریکارڈز میں مزید اضافہ ہوگا اور شاید انہیں مزید کئی برس تک کوئی چیلنج نہ کر سکے۔
ارجنٹائن کے شائقین کی امید ہے کہ میسی اپنے کیریئر کا اختتام ایک اور یادگار عالمی مہم کے ساتھ کریں گے۔
رونالڈو کے سامنے تاریخ کا نادر موقع
پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو بھی ایک منفرد عالمی ریکارڈ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
رونالڈو پہلے ہی پانچ مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں گول کر چکے ہیں۔ اگر وہ 2026 میں بھی کم از کم ایک گول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ فٹبال کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے جنہوں نے چھ مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں گول اسکور کیا ہو۔
یہ ایسا ریکارڈ ہوگا جس کا تصور بھی چند سال قبل مشکل سمجھا جاتا تھا۔ 39 سال سے زائد عمر کے باوجود رونالڈو کی فٹنس اور گول اسکورنگ صلاحیت انہیں اب بھی عالمی سطح پر خطرناک فارورڈز میں شامل رکھتی ہے۔
میروسلاو کلوزے کا ریکارڈ خطرے میں؟
ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ جرمنی کے عظیم اسٹرائیکر میروسلاو کلوزے کے پاس ہے۔ کلوزے نے اپنے چار ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 16 گول اسکور کیے تھے۔
یہ ریکارڈ ایک دہائی سے زائد عرصے سے قائم ہے، لیکن اب اس کے لیے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ لیونل میسی اس وقت ورلڈ کپ میں 13 گول کر چکے ہیں، جب کہ فرانس کے کائلیان ایمباپے کے نام 12 گول ہیں۔
اگر ان دونوں میں سے کوئی کھلاڑی 2026 میں شاندار کارکردگی دکھاتا ہے تو کلوزے کے تاریخی ریکارڈ کو چیلنج کر سکتا ہے۔ خصوصاً ایمباپے کی عمر اور موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے کئی ماہرین انہیں اس ریکارڈ کا سب سے مضبوط امیدوار قرار دے رہے ہیں۔
کیا ایمباپے نئی تاریخ لکھنے جا رہے ہیں؟
فرانس کے سپر اسٹار کائلیان ایمباپے پہلے ہی دو ورلڈ کپ فائنلز میں گول کر چکے ہیں۔ انہوں نے 2018 کے فائنل میں کروشیا کے خلاف اور 2022 کے فائنل میں ارجنٹائن کے خلاف گول کیا تھا۔
اگر فرانس مسلسل تیسری مرتبہ فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور ایمباپے اس فائنل میں بھی گول کرتے ہیں تو وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے جنہوں نے تین مختلف فائنلز میں گول کیا ہو۔
یہ ریکارڈ انہیں عالمی فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں مزید اوپر لے جا سکتا ہے۔
کیا ارجنٹائن اعزاز کا دفاع کر پائے گا؟
دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے سامنے بھی ایک تاریخی موقع موجود ہے۔ اگر ارجنٹائن 2026 میں ایک مرتبہ پھر عالمی چیمپئن بن جاتا ہے تو وہ 1962 کے بعد پہلی ٹیم ہوگی جو کامیابی سے اپنے ورلڈ کپ ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔
اس سے قبل برازیل نے 1958 اور 1962 میں مسلسل دو عالمی کپ جیتے تھے۔
اس کے علاوہ ارجنٹائن اٹلی اور برازیل کے بعد مسلسل دو ورلڈ کپ جیتنے والی صرف تیسری ٹیم بن جائے گی۔
یہ کارنامہ ارجنٹائن کی موجودہ نسل کو تاریخ کے عظیم ترین فٹبال اسکواڈز میں شامل کر سکتا ہے۔
برازیل کے پاس چھٹے عالمی تاج کا موقع
پانچ مرتبہ کا عالمی چیمپئن برازیل پہلے ہی ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے۔ برازیل نے 1958، 1962، 1970، 1994 اور 2002 میں عالمی ٹائٹل اپنے نام کیے تھے۔
اگر برازیل 2026 میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ چھ مرتبہ عالمی چیمپئن بننے والی پہلی ٹیم بن جائے گی۔ یہ ریکارڈ شاید آنے والے کئی عشروں تک کسی دوسری ٹیم کی پہنچ سے باہر رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ برازیل دنیا کی واحد ٹیم ہے جس نے ہر ورلڈ کپ میں شرکت کی ہے اور 2026 اس کی 23ویں مسلسل شرکت ہوگی۔
فرانس مسلسل تیسری بار فائنل تک پہنچ پائے گا؟
فرانس گزشتہ دو ورلڈ کپ میں فائنل کھیل چکا ہے۔ 2018 میں فرانس نے عالمی ٹائٹل جیتا، جب کہ 2022 میں اسے ارجنٹائن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر فرانسیسی ٹیم 2026 میں بھی فائنل تک رسائی حاصل کرتی ہے تو وہ تاریخ کی صرف تیسری ٹیم ہوگی جو مسلسل تین ورلڈ کپ فائنلز کھیلنے میں کامیاب ہوئی ہو۔
اس سے قبل اٹلی اور مغربی جرمنی یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔
FIFA world cup 2026 opening ceremony. pic.twitter.com/CrbiZ6oVYM
— Today I Learned (@TodayiLearrned) June 11, 2026
انگلینڈ اور یوراگوئے کا طویل انتظار
کئی روایتی فٹبال طاقتیں بھی طویل انتظار ختم کرنے کے خواب کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔ انگلینڈ نے اپنا واحد عالمی کپ 1966 میں جیتا تھا۔ اس کے بعد سے تقریباً چھ دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن انگلش ٹیم دوبارہ عالمی چیمپئن نہیں بن سکی۔
اسی طرح یوراگوئے، جس نے 1930 اور 1950 کے ورلڈ کپ جیتے تھے، 76 سال سے ایک اور عالمی تاج کا انتظار کر رہا ہے۔
جرمنی کے لیے ایک اور تاریخی سنگ میل
جرمنی پہلے ہی ورلڈ کپ کی تاریخ کی کامیاب ترین ٹیموں میں شمار ہوتا ہے۔ اگر جرمن ٹیم 2026 کے فائنل تک پہنچتی ہے تو یہ اس کی نویں ورلڈ کپ فائنل شرکت ہوگی۔
یہ کسی بھی ملک کی جانب سے سب سے زیادہ فائنل کھیلنے کا نیا عالمی ریکارڈ ہوگا۔
کیا میزبان ملک تاریخ بدل سکے گا؟
ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہوم گراؤنڈ کا فائدہ ہمیشہ اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم حیران کن طور پر 1998 میں فرانس کے عالمی چیمپئن بننے کے بعد کوئی میزبان ملک ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
2026 میں امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی نظریں بھی اسی تاریخ کو بدلنے پر مرکوز ہوں گی۔ اگر ان میں سے کوئی میزبان ٹیم عالمی کپ جیت لیتی ہے تو تقریباً تین دہائیوں پر محیط یہ انتظار ختم ہو جائے گا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 محض ایک فٹبال ٹورنامنٹ نہیں بلکہ تاریخ، ریکارڈز اور وراثت کی جنگ بھی ہوگا۔
کیا میسی اور رونالڈو چھٹا ورلڈ کپ کھیل کر نئی تاریخ رقم کریں گے؟ کیا رونالڈو چھ مختلف ورلڈ کپ میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے؟ کیا ایمباپے کلوزے کا ریکارڈ توڑ پائیں گے؟
کیا ارجنٹائن اپنے عالمی تاج کا دفاع کرے گا؟ یا برازیل چھٹا عالمی اعزاز جیت کر تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کرے گا؟
ان تمام سوالات کے جوابات آنے والے ہفتوں میں دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیج پر ملیں گے، جہاں صرف ایک ٹیم چیمپئن بنے گی، لیکن کئی ریکارڈ ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔





