پانچ مرتبہ کے بیلون ڈی اور فاتح رونالڈو اپنے شاندار کیریئر میں 36 ٹائٹل جیت چکے ہیں، جن میں یورپی چیمپئن شپ، نیشنز لیگ، فیفا کلب ورلڈکپ اور پریمیئر لیگ سمیت کئی بڑے اعزازات شامل ہیں۔ تاہم ایک ٹرافی ایسی ہے جو اب تک ان کی پہنچ سے دور رہی ہے اور وہ ہے فیفا ورلڈکپ۔
کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈکپ سفر جذباتی اتار چڑھاؤ اور ناکامیوں سے بھرپور رہا ہے۔ 2006 میں نوجوان رونالڈو پرتگال کو سیمی فائنل تک لے گئے، جہاں فرانس نے انہیں 1-0 سے شکست دے دی۔ اس کے بعد ہر ورلڈکپ میں امیدوں کے باوجود کامیابی ان سے دور رہی اور انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم اس بار صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ پرتگال شاید اپنی تاریخ کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے۔ فارورڈ لائن میں رونالڈو کے ساتھ رافائیل لیاؤ اور ژاؤ فیلکس موجود ہیں، جبکہ برونو فرنانڈیز اور برنارڈو سلوا مڈفیلڈ میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل کھلاڑی ہیں۔ دفاع اور مڈفیلڈ میں روبن ڈیاز اور روبن نیویس ٹیم کو مزید مضبوطی فراہم کرتے ہیں، جس سے پرتگال ایک متوازن اور خطرناک ٹیم بن کر سامنے آتا ہے۔
رونالڈو پہلے ہی فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پیلے، میراڈونا، بیکن باؤر، میسی اور زیدان کی طرح ان کا نام بھی کھیل کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جا چکا ہے، لیکن ورلڈکپ جیتنے کا خواب اب بھی ادھورا ہے۔
فیفا ورلڈکپ 2026 رونالڈو کے لیے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا آخری موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ برازیل، فرانس، ارجنٹائن اور جرمنی بھی ٹائٹل کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا رونالڈو اپنی آخری عالمی مہم میں وہ ٹرافی حاصل کر سکیں گے جو ان کے کیریئر میں اب تک شامل نہیں ہو سکی؟ اس کا جواب تو وقت ہی دے گا۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ چاہے وہ ورلڈکپ جیتیں یا نہ جیتیں، کرسٹیانو رونالڈو فٹبال کے عظیم ترین لیجنڈز میں شمار ہوتے رہیں گے۔
اور اگر یہ ٹرافی ان کے ہاتھ لگ گئی تو وہ صرف ایک عظیم کھلاڑی نہیں بلکہ ایک لازوال افسانہ بن جائیں گے۔






