تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کی ناقص رہائش اور کھانے کے انتظامات کے حوالے سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل یاسر پیرزادہ نے مذکورہ خبریں سامنے آنے پر انکوائری کا حکم دیا تھا۔
انکوائری کمیٹی کے چیئرمین چیف فنانشل آفیسر حسنات احمد تھے، جب کہ سعید احمد چوہدری اور رانا نصر اللہ اس کے اراکین میں شامل تھے۔ کمیٹی نے ایک روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ کو ارسال کر دی۔
وزیراعظم نے ہاکی معاملات میں بدانتظامی کا نوٹس لے لیا
— BOL Network (@BOLNETWORK) February 18, 2026
شہباز شریف کا ہاکی مینجمنٹ کو فارغ کرنے کا فیصلہ
براہ راست دیکھیں:https://t.co/9L0KYq1jYr
#PakistanHockeyTeam #ShehbazSharif #BreakingNews #BOLNews pic.twitter.com/xmYnzsHAt5
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر طارق بگٹی اور جنرل سیکرٹری رانا مجاہد سمیت ٹیم مینجمنٹ کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں شکست کے بعد وطن واپسی پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے سنسنی خیز انکشافات کیے تھے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں کھلاڑیوں سے کچن، برتن، کپڑے اور باتھ روم صاف کروائے گئے، خود کھانا پکایا گیا اور بعض اوقات سڑکوں پر بھی رہنا پڑا۔
عماد بٹ کا کہنا تھا کہ صبح اُٹھ کر کچن اور برتن صاف کرنے کے بعد کھلاڑی میدان میں کیا کارکردگی دکھائے گا؟ انہوں نے کہا کہ جو زیادتیاں ہم پر ہوئیں، وہ ہم ہی جانتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ کھلاڑی تین وقت کا کھانا 115 ڈالر میں خود برداشت کریں گے۔
The Pakistan National Hockey Team returned home after participating in the Pro Hockey League in Australia, but no official from the Pakistan Hockey Federation was present to receive the players at Lahore Airport.
— NEWSDAILY MEDIA GROUP (@NEWSDAILY123) February 18, 2026
Speaking to the media, national team captain Imad Shakeel Butt… pic.twitter.com/ApBWoulReC
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے متعدد وعدے کیے مگر انہیں پورا نہیں کیا، اور موجودہ ہاکی مینجمنٹ کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں۔
عماد بٹ نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کوڈ آف کنڈکٹ تسلیم نہیں کرتے اور مطالبہ کیا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا نوٹس لیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ ٹیم کو غیر ملکی کوچ کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں، تاہم کھلاڑیوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ میڈیا سے بات نہ کریں ورنہ پابندی لگا دی جائے گی۔ دیگر کھلاڑیوں نے بھی بتایا کہ آسٹریلیا میں انہیں سڑکوں پر رہنا پڑا اور ٹیم کا مورال بری طرح متاثر ہوا۔
دوسری جانب پاکستان اسپورٹس بورڈ کی ڈائریکٹر جنرل نورالصباح نے کہا کہ آسٹریلیا میں ہوٹل کی بکنگ کرائی گئی تھی، تاہم ہاکی فیڈریشن نے اسے منسوخ کر دیا، جس کی ذمہ داری پاکستان ہاکی فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان کا ٹاس جیت کر نمیبیا کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ
ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ کے مطابق واقعے کی مکمل انکوائری رپورٹ وزیرِ اعظم کو ارسال کی جائے گی، جب کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف پہلے ہی بدانتظامی کا نوٹس لے چکے ہیں۔





