ناروے اور عراق کے درمیان کھیلے گئے میچ میں ناروے نے 1-4 سے کامیابی حاصل کی، جس میں ہالینڈ نے پہلے ہاف کے دوران دو اہم گول اسکور کیے۔ ان کا پہلا گول 29ویں منٹ میں آیا، جو 1998 کے بعد ورلڈ کپ میں ناروے کا پہلا گول بھی تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ناروے کے زلزلہ شناس ادارے نورسارنے انکشاف کیا ہے کہ ساحلی شہر برگن میں نصب حساس سیسمومیٹرز نے میچ کے دوران غیر معمولی ارتعاشات ریکارڈ کیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ارتعاشات خاص طور پر ان لمحات میں نمایاں تھیں جب ایرلنگ ہالینڈ نے اپنے دونوں گول اسکور کیے اور ہزاروں شائقین نے بیک وقت جشن منایا۔

ادارے کے ماہرین نے وضاحت کی کہ یہ کسی قدرتی زلزلے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اسٹیڈیم اور اطراف میں موجود شائقین کے زور دار نعروں، خوشی سے اچھلنے کودنے اور اجتماعی جشن کے باعث پیدا ہونے والی زمینی لہریں تھیں، جنہیں حساس آلات نے ریکارڈ کر لیا۔

زلزلہ شناس ادارے کے ترجمان کے مطابق بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے دوران اس نوعیت کے ارتعاشات کبھی کبھار دیکھے جاتے ہیں، تاہم اس بار شائقین کے غیر معمولی جوش و خروش نے معمول سے زیادہ مضبوط ریڈنگز پیدا کیں۔

واضح رہے کہ عراق کے خلاف میچ کے دوران کسی قسم کا حقیقی زلزلہ پیش نہیں آیا، تاہم ہالینڈ کے گولوں پر منائے جانے والے جشن نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ گویا پورا ملک خوشی سے جھوم اٹھا ہو۔