لیونل میسی دو میچوں میں پانچ گول کے ساتھ سب سے آگے ہیں اور اسی دوران انہوں نے ورلڈ کپ کی آل ٹائم گول اسکورنگ فہرست میں بھی نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ارجنٹینا کے لیے وہ اب تک اس ٹورنامنٹ میں تمام پانچ گول کر چکے ہیں۔

فرانس کے کیلیان ایمباپے نے بھی شاندار جواب دیا ہے اور عراق کے خلاف میچ میں دو گول اسکور کیے۔ یہ ان کا 100واں بین الاقوامی میچ تھا، اور اس کارکردگی کے ساتھ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں 16 گول کے ساتھ میسی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

اسی طرح ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ نے بھی شاندار آغاز کرتے ہوئے سینیگال کے خلاف دو گول کیے اور اپنی ٹیم کو آخری 32 مرحلے میں پہنچا دیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ 1954 کے بعد ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچوں کے بعد تین کھلاڑیوں نے چار یا اس سے زیادہ گول کیے ہیں، جس نے شائقین کو حیران کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: جاپان اور تیونس کا میچ: ورلڈکپ کی تاریخ کا یادگار میچ بن گیا

ماہرین کے مطابق 48 ٹیموں پر مشتمل نئے فارمیٹ نے گول اسکورنگ کے مواقع بڑھا دیے ہیں، جس کی وجہ سے بڑے اسٹرائیکرز زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو اس ٹورنامنٹ میں کئی نئے ریکارڈ قائم ہو سکتے ہیں اور گولڈن بوٹ کی دوڑ تاریخ کی سب سے سخت ترین مقابلہ بن سکتی ہے۔