تفصیلات کے مطابق فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکا آنے والی مختلف ٹیموں کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ساتھ ایئرپورٹس پر سخت سیکیورٹی رویے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔

سینیگال اور ازبکستان کی ٹیموں کے ساتھ ایئرپورٹس پر ہونے والی جانچ پڑتال کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد شائقین کی جانب سے امریکی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ازبکستان کی ٹیم کی نیدرلینڈز کے خلاف دوستانہ میچ کے لیے آمد کے موقع پر سراغ رساں کتوں اور جدید سیکیورٹی آلات کے ذریعے تلاشی لی گئی۔

اسی طرح سینیگال کی قومی فٹبال ٹیم کی سخت سیکیورٹی جانچ پڑتال کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

وائرل ویڈیو میں سینیگال کے کھلاڑیوں کو ٹیم جرسیوں میں ہوائی اڈے کے رن وے پر اپنے سامان کے قریب کھڑا دیکھا جا سکتا ہے، جہاں سیکیورٹی اہلکار ان کی تلاشی لیتے نظر آتے ہیں۔

ویڈیو کے ایک حصے میں ایک کھلاڑی اپنے بازو پھیلائے کھڑا ہے جبکہ ایک اہلکار سیکیورٹی آلے کے ذریعے اس کی جانچ پڑتال کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی کھلاڑیوں کے ٹرمینل میں داخل ہونے سے قبل کی گئی۔

تاہم اس حوالے سے سینیگال فٹبال فیڈریشن، فیفا یا امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے بعد متعدد صارفین نے کھلاڑیوں کے ساتھ کیے گئے سلوک کو تذلیل آمیز قرار دیا ہے۔

اس سے قبل عراقی وفد کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے بھی اس بحث کو مزید تقویت دی تھی۔

عراقی ٹیم کے اسٹار اسٹرائیکر ایمن حسین کو شکاگو ایئرپورٹ پر تقریباً سات گھنٹے تک روکے رکھا گیا، جبکہ اس دوران ان کا موبائل فون بھی چیک کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔

دوسری جانب عراقی ٹیم کے سرکاری فوٹوگرافر طلال صلاح کو دس گھنٹے سے زائد وقت تک روکنے کے بعد امریکا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے واپس بھیج دیا گیا۔