برازیل میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر ہورمین کی زندگی خود ایک محنت اور لگن کی داستان ہے۔ انہوں نے یورپ کے اعلیٰ ترین فٹبال کلبوں میں اپنا نام بنایا، ریال میڈرڈ PSV آئنڈہوون اور گو اہیڈ ایگلز۔ نیدرلینڈز کی انڈر 16 مردوں کی قومی ٹیم اور ڈچ خواتین ہینڈ بال ٹیم کے ساتھ بھی وہ اپنی خدمات دے چکی ہیں۔ ریال میڈرڈ میں انہوں نے 2020 میں خواتین ٹیم سے آغاز کیا اور پھر مردوں کی ٹیم تک کا سفر طے کیا۔
جب فیفا نے انہیں بتایا کہ وہ 48 ٹیموں میں واحد خاتون چیف میڈیکل آفیسر ہیں تو ان کا جواب تھا: "مجھے شروع میں احساس ہی نہیں ہوا کیونکہ کمرے میں واحد یا چند خواتین میں سے ایک ہونا میرے لیے معمول بن چکا ہے۔"
کیوراساؤ ایک چھوٹا کیریبین جزیرہ ہے جس کی آبادی صرف ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے، یہ مردوں کے ورلڈ کپ میں شریک اب تک کی سب سے کم آبادی والی ٹیم ہے۔ مگر اس چھوٹے سے جزیرے نے ورلڈ کپ کوالیفیکیشن میں ایک بھی میچ نہیں ہارا، سات میچ جیتے اور تین ڈرا کیے۔ یہ شاندار کارکردگی ہے جو اس ٹیم کو منفرد بناتی ہے۔اوراب انہوں نے میدان کے باہر بھی تاریخ رقم کر دی۔
لیکن اس ورلڈ کپ میں ایک اور تاریخ بھی رقم ہوئی، کیوراساؤ اور جرمنی کے درمیان میچ میں پہلی بار مردوں کے ورلڈ کپ کی تاریخ میں میدان کی پوری بیرونی میڈیکل ٹیم خواتین پر مشتمل تھی۔ فیفا میچ ڈاکٹر ڈاکٹر ایما لوناں، ڈاکٹر ہورمین، جرمنی کی ڈاکٹر سیلجا شوارز، ایمرجنسی میڈیسن ڈاکٹر کیری باکوناس اور انجری اسپاٹر ڈاکٹر کیری پیک۔ پانچ خواتین نے مل کر وہ کام کیا جو 96 سال میں کبھی نہیں ہوا۔
ڈاکٹر ایما لوناں کہتی ہیں کہ "یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سپورٹس میڈیسن میں مہارت جنس پر نہیں، قابلیت پر منحصر ہے۔"
ڈاکٹر ہورمین خود کہتی ہیں کہ مردوں کے ماحول میں کام کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں: "اگر آپ اپنی قابلیت ثابت کریں تو قبولیت آسان ہو جاتی ہے۔ مگر شروع میں بہت لوگ نہیں کہتے ہیں۔" کیوراساؤ کی پوری فیڈریشن پہلے مکمل طور پر مردوں پر مشتمل تھی — کوئی خاتون نہیں، نہ میڈیکل ٹیم میں، نہ کہیں اور۔ آج وہ اکیلی مگر سربلند ہیں۔
فیفا نے 2026 میں خواتین کے ٹورنامنٹ کے لیے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جن کے تحت کم از کم ایک خاتون میڈیکل اسٹاف اور ایک خاتون کوچ لازمی ہے — مگر مردوں کے ٹورنامنٹ کے لیے ابھی ایسی کوئی پابندی نہیں۔ ڈاکٹر ہورمین کا وجود اس خلا کو بھرنے کا مطالبہ خود بخود کرتا ہے۔
48 ٹیمیں، ایک عورت، اور ایک پیغام، کہ قابلیت کی کوئی جنس نہیں ہوتی۔







