ایرانی ٹیم میکسیکو کے شہر تیخوانا سے لاس اینجلس پہنچی، جہاں پیر کو وہ اپنے پہلے گروپ میچ میں نیوزی لینڈ کا سامنا کرے گی۔

لاس اینجلس اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کے ہیڈ کوچ امیر قلعی نویی نے کہا کہ وہ اپنی قوم کی نمائندگی پر فخر محسوس کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ فٹبال مختلف ثقافتوں اور ممالک کو قریب لانے کا ذریعہ بنے گی۔

ایران کا یہ میچ ایسے وقت میں کھیلا جا رہا ہے جب حالیہ امریکہ ایران جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلان کردہ امن معاہدہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار آمنے سامنے آئیں گی۔

ایرانی ٹیم نے سیکیورٹی اور سفری مسائل کے باعث گزشتہ ماہ اپنا بیس کیمپ امریکی ریاست ایریزونا سے منتقل کرکے میکسیکو میں قائم کیا تھا۔

کوچ امیر قلعی نویی نے کہا کہ بار بار سفر اور بعض ایرانی فٹبال حکام کو امریکی ویزے جاری نہ کیے جانے سے ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب لاس اینجلس اسٹیڈیم کے قریب ایرانی حکومت مخالف مظاہرین نے ریلی نکالی اور ایران میں جمہوریت کے حق میں نعرے لگائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ عالمی برادری کی توجہ ایران کی صورتحال کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔

امیر قلعی نویی نے اس موقع پر واضح کیا کہ کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف سیاسی معاملات سے دور ہیں اور ان کا مقصد صرف فٹبال کھیلنا اور دنیا بھر میں مقیم ایرانی عوام کی نمائندگی کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026؛ نیا عالمی چیمپئن کون بنے گا؟

ادھر تیخوانا میں روانگی کے وقت ایرانی شائقین کی بڑی تعداد نے ٹیم کو پرتپاک انداز میں الوداع کہا۔ مداحوں نے  ٹیم ملی  کے نعرے لگائے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔

واضح رہے کہ لاس اینجلس دنیا کی سب سے بڑی ایرانی تارکین وطن برادریوں میں سے ایک کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور اسے غیر رسمی طور پر  تہرانجلس  بھی کہا جاتا ہے۔