آئی سی سی کے پچ اور آؤٹ فیلڈ مانیٹرنگ نظام کے تحت دونوں میدانوں کو ایک، ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا ہے۔

میچ کے بعد فیلڈ امپائرز اینڈریو پائکرافٹ (لارڈز) اور گریم لی بروئے (قذافی اسٹیڈیم) نے اپنی رپورٹس جمع کرائیں، جن میں میچ آفیشلز اور دونوں ٹیموں کے کپتانوں کی جانب سے پچوں کے معیار پر اٹھائے گئے تحفظات کی عکاسی کی گئی ہے۔

لارڈز کی پچ کے بارے میں اینڈریو پائکرافٹ نے کہا کہ ٹیسٹ میچ کے دوران پچ سے باؤلرز کو ضرورت سے زیادہ مدد ملی۔ ان کے مطابق غیر معمولی سیم موومنٹ، غیر یقینی اچھال اور کم رفتار کے باعث بلے بازوں کے لیے کھیلنا انتہائی دشوار ہو گیا تھا۔

پائکرافٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پورے میچ کے دوران گیند غیر معمولی حد تک حرکت کرتی رہی اور کئی مواقع پر بہت نیچی بھی رہی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پہلے روز 16 اور دوسرے روز 17 وکٹیں گرنے سے واضح تھا کہ پچ نے کھیل کا توازن حد سے زیادہ باؤلرز کے حق میں کر دیا تھا۔

دوسری جانب گریم لی بروئے نے قذافی اسٹیڈیم کی پچ کو سست رفتار اور کم اچھال والی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پچ خاص طور پر اسپن باؤلرز کے لیے انتہائی سازگار ثابت ہوئی، جس کے باعث بلے بازوں کے لیے رنز بنانا مشکل ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ پچ کی سست روی اور کم اچھال نے ایک روزہ بین الاقوامی میچ کے معیار کو متاثر کیا کیونکہ بلے بازوں کو کریز پر سیٹ ہونے کے لیے غیر معمولی وقت درکار تھا۔ ان کے مطابق میچ کے آغاز سے ہی اسپنرز کو مدد ملنا شروع ہو گئی تھی اور یہ صورتحال پورے مقابلے کے دوران برقرار رہی۔

آئی سی سی نے دونوں رپورٹس انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو ارسال کر دی ہیں۔ دونوں بورڈز کے پاس اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 14 دن کا وقت موجود ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کے خلاف کوئی ڈی میرٹ پوائنٹ درج نہیں تھا۔