غزہ کی پٹی میں موجود پریمیئر لیگ کے فٹبالر فادی العراوی گزشتہ دو برس سے میدان سے دور ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد پیشہ ورانہ کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہو گئیں جبکہ ان کا گھر بھی دیگر ہزاروں عمارتوں کی طرح تباہ ہو چکا ہے۔

قطر اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان ورلڈ کپ میچ دیکھنے کے لیے فادی العراوی نے اپنی پرانی کلب یونیفارم اور بین الاقوامی مقابلوں میں حاصل کیے گئے تمغے پہن لیے۔

 وہ خان یونس میں قائم ایک پناہ گاہ میں دوستوں کے ساتھ لیپ ٹاپ پر میچ دیکھنے کی کوشش کرتے رہے، جہاں انٹرنیٹ کی خراب صورتحال اور مسلسل گونجتے اسرائیلی ڈرونز ان کے لیے ایک اور چیلنج تھے۔

فادی العراوی کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کنکشن مسلسل منقطع ہو رہا ہے جبکہ ہر لمحہ بمباری کا خطرہ موجود ہے، تاہم اس کے باوجود وہ فٹبال سے اپنا رشتہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔


2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور لاکھوں فلسطینی خیموں یا جزوی طور پر تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اس کے باوجود شہری ورلڈ کپ مقابلوں سے جڑے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

غزہ سٹی کے ایک کیفے کے مالک علاء ببلی نے میچز کی نشریات جاری رکھنے کے لیے متبادل بجلی کا انتظام کیا ہے تاکہ شائقین رات گئے بھی مقابلے دیکھ سکیں۔ کیفے میں موجود شائقین کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات پر بھی حملے کا خوف موجود رہتا ہے، مگر فٹبال انہیں معمولاتِ زندگی سے جڑے رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق جنگ کے دوران تقریباً ایک ہزار کھلاڑی جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 285 کے قریب کھیلوں کی تنصیبات تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔

 غزہ کا تاریخی الیرموک اسٹیڈیم بھی اب کھیلوں کے مرکز کے بجائے بے گھر خاندانوں کی عارضی رہائش گاہ بن چکا ہے۔


فلسطینی فٹبال حکام کا کہنا ہے کہ جنگ نے کھیلوں کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود غزہ کے عوام اور کھلاڑی فٹبال سے اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور ورلڈ کپ ان کے لیے امید اور معمول کی زندگی کی ایک جھلک بن گیا ہے۔