سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے ملتان سلطانز محض ایک کرکٹ ٹیم نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کی آواز تھی۔
علی ترین کا کہنا تھا کہ ملتان سلطانز کے ساتھ ان کا سفر جنوبی پنجاب کی نمائندگی اور اس خطے کو پہچان دلانے کے جذبے سے جڑا ہوا تھا، جو طویل عرصے سے نظر انداز ہوتا رہا ہے۔
After careful consideration, my family and I have decided not to participate in today’s PSL franchise auction.
— Ali Khan Tareen (@aliktareen) January 8, 2026
Our time with Multan Sultans was never just about owning a cricket team. It was about South Punjab. About giving a voice to a region that had been overlooked for too…
انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ مستقبل میں پی ایس ایل میں واپسی کریں گے تو اس کی واحد وجہ بھی جنوبی پنجاب ہی ہوگا، کیونکہ یہی ان کا گھر اور دل کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال وہ پی ایس ایل کو اسٹیڈیم میں بیٹھ کر بطور تماشائی دیکھیں گے، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے اور شائقین کے ساتھ جشن منائیں گے۔ تاہم جب بھی ملتان کی ٹیم فروخت کے لیے پیش کی گئی، وہ اس کے لیے تیار ہوں گے۔
علی ترین نے تمام بولی دہندگان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سب سے زیادہ باہمت اور بے باک مالک کامیاب ہو۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پی ایس ایل 11 کے لیے فرنچائز نیلامی سے قبل 10 اہل بولی دہندگان کی فہرست جاری کی ہے، جن میں مختلف مقامی اور بین الاقوامی کمپنیاں شامل ہیں، جب کہ پی ایس ایل سیزن 11 میں ملتان سلطانز کی فرنچائز پی سی بی کے زیرِ انتظام چلائی جائے گی۔






