میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول پیراگوئے کے مڈفیلڈر ماتیاس گالارزا نے صرف 64 سیکنڈ میں کیا، جو اب تک ٹورنامنٹ کا تیز ترین گول قرار دیا جا رہا ہے۔
پیراگوئے کو پہلے ہاف کے اضافی وقت میں اس وقت بڑا دھچکا لگا جب کپتان میگوئل المیرون کو ایک نئے ورلڈ کپ قانون کے تحت ریڈ کارڈ دکھا دیا گیا۔ المیرون ترکی کے مدافع میرت مُلدر کے ساتھ تلخ جملوں کے تبادلے کے دوران اپنا منہ ہاتھ سے ڈھانپتے نظر آئے، جس پر وی اے آر جائزے کے بعد ریفری نے انہیں میدان سے باہر بھیج دیا۔
ایک کھلاڑی کم ہونے کے باوجود پیراگوئے نے بھرپور دفاعی کھیل پیش کیا اور ترکی کے مسلسل حملوں کو ناکام بنایا۔ ترکی نے پورے میچ میں درجنوں مواقع پیدا کیے، تاہم کوئی بھی موقع گول میں تبدیل نہ کر سکی۔
اعداد و شمار کے مطابق ترکی نے اپنے ابتدائی دو میچوں میں مجموعی طور پر 62 شاٹس لگائے، لیکن ایک بھی گول اسکور نہ کر سکی۔ یہ 1966 کے بعد ورلڈ کپ کی تاریخ میں دو میچوں کے دوران بغیر گول کے سب سے زیادہ شاٹس کا ریکارڈ ہے۔
ترکی کی ٹیم نے دونوں میچوں میں زیادہ تر وقت گیند پر کنٹرول رکھا اور متوقع گولز کے لحاظ سے بھی بہتر کارکردگی دکھائی، مگر ناقص فنشنگ نے اسے ایونٹ سے باہر کر دیا۔
مزید پڑھیں:ورلڈ کپ کے دوران مراکش کے کپتان قانونی مقدمے کی زد میں
ترکی کے کوچ ونچینزو مونٹیلا نے میچ کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ میں بقا کے لیے آخری سیکنڈ تک سخت مقابلہ کیا، وہ اپنے کھلاڑیوں پر فخر کرتے ہیں لیکن فٹبال میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
دوسری جانب پیراگوئے کو اب گروپ ڈی کے اپنے آخری میچ میں آسٹریلیا کے خلاف کامیابی درکار ہوگی، جس سے وہ ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا سکتی ہے۔






