ایف آئی آر کے متن کے مطابق  معمول کی سائبر نگرانی کے دوران ریحان طارق  کے آفیشل فیس بک پیج پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو کا جائزہ لیا گیا، جس میں ریحان طارق معروف مذہبی اسکالر علامہ جواد نقوی کا انٹرویو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق انٹرویو کے دوران مذہبی عقائد اور فرقہ وارانہ نوعیت کے حساس معاملات پر سوالات کیے گئے۔ 

ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوالات کا انداز اور گفتگو کا تناظر مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان تنازع، غلط فہمی، سماجی تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ پروگرام کے دوران اور اس سے متعلق دیگر مواد میں ایسے بیانات بھی نشر کیے گئے جنہیں ایک مخصوص مذہبی طبقے، یعنی شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت یا دشمنی کو فروغ دینے اور بعض معاملات میں تشدد کی توجیہ پیش کرنے کے مترادف قرار دیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق یہ مواد بعد ازاں ریحان طارق کے  فیس بک پیج کے ذریعے وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچایا گیا، جس سے عوامی امن، مذہبی ہم آہنگی اور سماجی اتحاد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔

ابتدائی انکوائری کے دوران متعلقہ فیس بک اکاؤنٹ کی تصدیق ریحان طارق سے منسوب ہونے کے طور پر کی گئی، جس کے بعد مجاز اتھارٹی کی منظوری سے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کیا کرسٹیانو رونالڈو نے گول کرنے سے قبل "بسم اللہ" پڑھی؟

واضح رہے کہ ایف آئی آر میں درج تمام نکات تفتیشی ادارے کے الزامات ہیں۔ ان الزامات کا حتمی تعین عدالت میں شواہد، قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلے کے بعد ہوگا