رپورٹس کے مطابق احمد الشرع کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ ماڈل آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جہاں سے اس وقت دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں فور سیز منصوبہ بھی زیرِ غور ہے، جس کے تحت خلیج، بحیرۂ روم، بحیرۂ کیسپیئن اور بحیرۂ اسود کو ایک مربوط نیٹ ورک کے ذریعے جوڑنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں کرکوک-بانیاس پائپ لائن کی بحالی، عرب گیس پائپ لائن کو ترکی تک توسیع دینے اور قطر سے یورپ تک نئی گیس راہداریوں کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔

مزید برآں فور پلس ون انیشی ایٹو بھی سامنے آیا ہے، جس کا مقصد زمینی کوریڈورز کے ذریعے تجارت اور توانائی کی ترسیل کو فروغ دینا ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق اس منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 50 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب IMEC کوریڈور کو بھی ایک متبادل علاقائی منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں بھارت، خلیجی ممالک اور یورپ کو سمندری اور ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے جوڑنے کی تجویز شامل ہے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اس منصوبے میں شام کو شامل نہیں کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق شام میں جاری تنازعات کے باعث انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ سکیورٹی اور معاشی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے بڑے منصوبوں کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی، جب کہ یورپی گیس مارکیٹ میں روس، آذربائیجان اور الجزائر پہلے ہی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ تمام منصوبے خطے میں تجارت اور توانائی کی ترسیل کے نئے ممکنہ راستوں کے طور پر زیرِ بحث ہیں، تاہم ان پر عملی پیش رفت مختلف سیاسی، سکیورٹی اور معاشی عوامل سے مشروط قرار دی جا رہی ہے۔