اظہر میمن کی ویڈیو میں انہوں نے اپنی بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا ذکر کیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کی حمایت میں آواز اٹھائی گئی۔ بعد ازاں حکام کی جانب سے انہیں سرکاری ملازمت فراہم کر دی گئی۔
سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اظہر میمن جیسے لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان مرد و خواتین ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ آیا نوکری حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کو اسی طرح اپنی مشکلات عوامی سطح پر بیان کرنا ہوں گی۔
ماہرینِ تعلیم کے مطابق پاکستان میں ایک متوسط طبقے کا خاندان اپنے بچے کی 16 سالہ تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے۔ اندازوں کے مطابق سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم پر کتابوں، فیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات سمیت تقریباً 30 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، جبکہ نجی اور ایلیٹ تعلیمی اداروں میں یہ لاگت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 30 سے زائد تعلیمی بورڈز ہر سال لاکھوں طلبہ سے امتحانی فیسوں کی مد میں اربوں روپے وصول کرتے ہیں۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے لیے فی طالب علم ہزاروں روپے فیس لی جاتی ہے، جبکہ یونیورسٹیوں میں داخلہ ٹیسٹ، انرولمنٹ اور ڈگری کلیئرنس کی مد میں بھی طلبہ سے بھاری اخراجات وصول کیے جاتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس ساڑھے آٹھ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ہر سال تقریباً 20 لاکھ نئے نوجوان ملازمت کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے ملک کو سالانہ کم از کم 20 لاکھ نئی ملازمتوں کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث میں صارفین حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ اگر ایک نوجوان کو وائرل ویڈیو کے بعد ملازمت مل سکتی ہے تو ہر سال روزگار کی تلاش میں آنے والے لاکھوں دیگر نوجوانوں کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔