محمد ولی کے والد جو پیشے کے اعتبار سے رکشہ ڈرائیور ہیں انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ دن بھر محنت مزدوری کے بعد گھر پہنچے تو بیٹی ماہ نور نے اطلاع دی کہ ولی دوپہر سے لاپتا ہے۔ اہل خانہ نے رات گئے تک بچے کو تلاش کیا، مگر کامیابی نہ ملی۔

دو روز تک تلاش جاری رہی

مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس، اہل خانہ اور علاقہ مکین دو روز تک محمد ولی کی تلاش کرتے رہے۔ محلے کے ہر گھر، گلی اور ممکنہ مقام پر بچے کو ڈھونڈا گیا، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔

بعد میں معلوم ہوا کہ جس شخص پر کسی کو شک نہیں تھا، وہی اس پورے واقعے کا مرکزی ملزم تھا۔

ملزم نے پولیس اور اہل خانہ کو کیسے گمراہ کیا؟

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم حمزہ مقتول بچے کا پڑوسی ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ بچے کے اغوا کے بعد ملزم نہ صرف اہل خانہ کے ساتھ تلاش میں شریک رہا بلکہ پولیس کے سامنے بھی خود کو بے گناہ ظاہر کرتا رہا۔

مقامی افراد کے مطابق ملزم نے اپنے گھر کے ایک مخصوص کمرے میں کسی کو داخل نہیں ہونے دیا۔ جب اہل محلہ نے کمرہ کھولنے کا مطالبہ کیا تو اس نے یہ بہانہ بنایا کہ اس کمرے کی چابی اس کی بھابھی اپنے ساتھ پنجاب لے گئی ہیں۔

علاقہ مکین بلاول کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کو کئی مرتبہ اس کمرے کی تلاشی لینے کا کہا، لیکن اس پر فوری کارروائی نہیں کی گئی۔ بعد میں اسی کمرے سے خون کے نشانات بھی سامنے آئے، جس کے باعث اہل علاقہ کا شبہ یقین میں بدل گیا۔

لاش کیسے ملی اور ملزم کیسے پکڑا گیا؟

بچے کی گمشدگی کے دو روز بعد اچانک محلے میں ایک زور دار آواز سنائی دی، جیسے کوئی بھاری چیز زمین پر گری ہو۔

علاقہ مکین جب آواز کی سمت دوڑے تو خالی پلاٹ میں ایک بوری پڑی ہوئی تھی، جسے مبینہ طور پر تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکا گیا تھا۔

جب بوری کھولی گئی تو اس میں چھ سالہ محمد ولی کی مسخ شدہ لاش موجود تھی۔

یہ منظر دیکھتے ہی پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ مشتعل شہری فوراً اسی عمارت میں داخل ہوئے، جہاں سے بوری پھینکے جانے کا شبہ تھا، اور وہاں موجود ملزم حمزہ کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

ابتدائی تحقیقات میں کیا انکشاف ہوا؟

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق گرفتار ملزم مقتول بچے کا پڑوسی ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔

پولیس نے ملزم کو نیپئر تھانے میں درج مقدمہ نمبر 92/26 میں نامزد کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

دوسری جانب ایک مقامی سیاسی عہدیدار کے مطابق ملزم نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا کہ اس نے یہ قدم اپنے والد اور مقتول بچے کے والد کے درمیان مبینہ ذاتی دشمنی کے باعث اٹھایا، تاہم پولیس اس بیان سمیت تمام پہلوؤں کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔

تفتیش اب کہاں تک پہنچی؟

پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے مقدمے کو مضبوط بنانے کے لیے سائنسی بنیادوں پر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے اہم مائیکرو شواہد اکٹھے کیے ہیں، جب کہ ملزم کے گھر سے اس کے زیر استعمال پرانے کپڑے بطور نمونہ قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا ڈی این اے حاصل کرکے اسے مقتول بچے سے ملنے والے شواہد سے میچ کیا جائے گا تاکہ جرم کو فرانزک بنیادوں پر عدالت میں ثابت کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:کے ٹو کارگو طیارہ حادثہ؛ عملے کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری

پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس واردات میں کسی اور شخص نے ملزم کی مدد کی یا نہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ملزم کے گھر میں رہنے والے دو دیگر افراد اس وقت مفرور ہیں، جن کے بارے میں پولیس کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ملزم کے ساتھ کیا ہوا؟

محمد ولی کی لاش ملنے کے بعد مشتعل شہریوں نے ملزم حمزہ اور اس کے والد کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

عوامی تشدد کے باعث ملزم شدید زخمی ہوگیا، جسے پولیس نے ہجوم سے چھڑا کر سول اسپتال منتقل کیا، جہاں اس کا طبی معائنہ اور علاج کیا گیا۔

اہل خانہ کیا کہتے ہیں؟

غم سے نڈھال والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے معصوم بچے کی لاش بوری میں بند کرکے عمارت سے نیچے پھینکی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو بھی ویسی ہی سزا ملنی چاہیے جیسی اس نے ان کے بچے کے ساتھ کی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ میرے جگر کا ٹکڑا محمد ولی 5 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور سب کا لاڈلہ تھا۔ انہوں نے سندھ حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں سے واقعے کا نوٹس لے کر ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم ایک عادی مجرم ہے۔ اگر یہ باہر آگیا تو یہ اور بھی بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ آج میرا بیٹا نا حق مارا گیا، کل کسی اور کا بچہ اس کا نشانہ بنے گا۔

 مقتول ولی کی بہن ماہ نور  اپنے چھوٹے بھائی کی لاش دیکھ کر زاروقطار روتی رہی اور سوال کرتی رہی کہ میرے چھوٹے بھائی کو کیوں مارا؟  وہ بہت پیارا تھا،  اس کا کیا قصور تھا؟

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگر ایسے سفاک ملزمان کو سخت سزا نہ دی گئی تو مستقبل میں مزید معصوم بچے بھی ایسے جرائم کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اب آگے کیا ہوگا؟

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ، فرانزک شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر سائنسی تجزیوں کی روشنی میں تفتیش مکمل کی جائے گی، جس کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب متاثرہ خاندان، مقامی افراد اور سماجی رہنماؤں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔