ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں آنٹ کیپنگ کا شوق تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جس میں لوگ گھروں میں شیشے کے فارم بنا کر چیونٹیوں کی بستیاں پالتے ہیں۔ لیکن اس شوق نے اب ایک بڑی غیر قانونی مارکیٹ کو جنم دے دیا ہے۔
خصوصاً مشرقی افریقہ میں پائی جانے والی جائنٹ افریکن ہارویسٹر آنٹ اپنے شوخ سرخ رنگ، منفرد شکل اور بڑے سائز کی وجہ سے عالمی خریداروں میں بے حد مقبول ہو چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چیونٹیاں افریقی ممالک میں انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں، تاہم یورپ اور ایشیا کی بلیک مارکیٹ میں ایک ہی ملکہ چیونٹی کی قیمت 220 سے 350 امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 60 ہزار سے 90 ہزار پاکستانی روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک فرٹائل ملکہ چیونٹی اکیلے لاکھوں چیونٹیوں کی پوری کالونی قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور 20 سال سے زائد عرصے تک زندہ رہ سکتی ہے۔
اسمگلرز ایئرپورٹ سیکیورٹی سے بچنے کے لیے ان چیونٹیوں کو چھوٹی پلاسٹک ٹیسٹ ٹیوبز اور ٹشو پیپر میں لپیٹ کر سامان میں چھپا لیتے ہیں، کیونکہ عام طور پر ایئرپورٹ اسکینرز ہتھیاروں، منشیات یا بڑی اشیا کی نشاندہی کے لیے بنائے گئے ہیں۔
حال ہی میں کینیا وائلڈ لائف سروس نے اس بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں۔ کینیا کے ایک ایئرپورٹ پر ژانگ کیچن نامی چینی شہری کو گرفتار کیا گیا، جس کے سامان سے 2 ہزار سے زائد زندہ ملکہ چیونٹیاں برآمد ہوئیں۔ عدالت نے اسے ایک سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی۔
اسی طرح یورپ سے تعلق رکھنے والے دو نوعمر لڑکوں کو بھی کینیا میں گرفتار کیا گیا، جو اپنے ساتھ 5 ہزار زندہ چیونٹیاں اسمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ماہرینِ حیاتیات کے مطابق بظاہر معصوم دکھائی دینے والا یہ شوق ماحولیات کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افریقی علاقوں سے ان چیونٹیوں کے خاتمے سے وہاں کی مٹی، بیجوں اور قدرتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، کیونکہ یہ چیونٹیاں بیجوں کی منتقلی اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ غیر ملکی چیونٹیاں کسی دوسرے ملک کے ماحول میں پھیل گئیں تو وہ مقامی چیونٹیوں کی نسلوں کو ختم کرنے، فصلوں کو نقصان پہنچانے اور نئے ماحولیاتی بحران کو جنم دینے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شوق اور فیشن اپنی جگہ، لیکن فطرت کے ساتھ یہ خطرناک کھیل مستقبل میں پوری دنیا کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔






