آخر یہ ننھی مخلوق اتنی درستگی سے خوراک کا سراغ کیسے لگا لیتی ہے؟ کیا وہ دور سے خوشبو سونگھ لیتی ہے یا اس کے پیچھے کوئی سائنسی راز چھپا ہے؟

چیونٹیاں میٹھی چیزوں کا سراغ کیسے لگاتی ہیں؟

ماہرین کے مطابق چیونٹیاں صرف خوشبو پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ ان کے جسم میں ایک انتہائی مؤثر قدرتی نظام موجود ہوتا ہے اور ہر وقت چند مزدور چیونٹیاں اپنے گھونسلے سے نکل کر اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیتی رہتی ہیں۔ ان کا مقصد نئی خوراک تلاش کرنا ہوتا ہے۔

اس دوران وہ اپنے اینٹینا (سینگ نما اعضا) کی مدد سے زمین، دیواروں، دراڑوں اور مختلف سطحوں پر موجود نہایت معمولی کیمیائی ذرات بھی محسوس کر لیتی ہیں، جنہیں انسان محسوس نہیں کر سکتا۔

اینٹینا چیونٹیوں کے لیے کیوں اہم ہوتے ہیں؟

چیونٹیوں کے اینٹینا صرف چھونے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ یہی ان کی سونگھنے، راستہ پہچاننے اور ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ان کے اینٹینا اور اگلی ٹانگوں پر موجود خاص ریسیپٹرز صرف چھو کر یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ سامنے موجود چیز میٹھی ہے یا نہیں۔اسی لیے چینی کا ایک دانہ، خشک ہو چکا شربت، چائے کا قطرہ یا مٹھائی کا انتہائی چھوٹا ٹکڑا بھی ان کے لیے خوراک کا واضح اشارہ بن جاتا ہے۔

کیا چیونٹی دور سے چینی کی خوشبو سونگھ لیتی ہے؟

ایسا نہیں ہوتا کہ گھر سے بہت دور موجود کوئی چیونٹی اچانک چینی کی خوشبو محسوس کر لے

اصل میں چند چیونٹیاں مسلسل خوراک کی تلاش میں ادھر ادھر گھوم رہی ہوتی ہیں۔ جیسے ہی ان میں سے کسی ایک کو خوراک ملتی ہے، وہ خود واپس جانے کے بجائے اپنی پوری کالونی کو بھی اطلاع دیتی ہے۔

دوسری چیونٹیوں کو راستہ کیسے ملتا ہے؟

خوراک ملنے کے بعد چیونٹی واپسی کے راستے میں فیرومونز (Pheromones) نامی خاص کیمیائی مادہ خارج کرتی جاتی ہے۔ یہ کیمیائی نشانات ایک قدرتی راستہ بنا دیتے ہیں، جس پر چلتے ہوئے دوسری چیونٹیاں بھی سیدھی خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے کچھ ہی دیر میں ایک یا دو چیونٹیوں کی جگہ پورا جھنڈ وہاں جمع ہو جاتا ہے۔

فیرومونز کیسے کام کرتے ہیں؟

ماہرین فیرومونز کو چیونٹیوں کا قدرتی گوگل میپس قرار دیتے ہیں۔

جو چیونٹی سب سے پہلے خوراک دریافت کرتی ہے، وہ واپسی کے دوران مسلسل یہ کیمیائی نشان چھوڑتی جاتی ہے، جسے دوسری چیونٹیاں اپنے اینٹینا سے پڑھ لیتی ہیں۔

تحقیقات کے مطابق یہ کیمیائی راستہ تقریباً 47 منٹ تک مؤثر رہ سکتا ہے، جو باقی مزدور چیونٹیوں کے لیے خوراک تک پہنچنے کا کافی وقت ہوتا ہے۔

بند الماری میں رکھی میٹھی چیزوں تک کیسے پہنچ جاتی ہیں؟

بند الماری مکمل طور پر ہوا بند نہیں ہوتی۔ دروازوں کے کناروں، لکڑی کی باریک دراڑوں، شیلف کے خلا یا دیگر معمولی سوراخوں سے میٹھی اشیا کی نہایت معمولی کیمیائی بو باہر نکل سکتی ہے، جسے چیونٹیاں محسوس کر لیتی ہیں۔

اگر انہیں اندر جانے کا معمولی سا راستہ بھی مل جائے تو وہ اس تک پہنچ جاتی ہیں اور بعد میں دوسری چیونٹیوں کے لیے بھی وہی راستہ فیرومونز کے ذریعے نشان زد کر دیتی ہیں۔

اگر اینٹینا نہ ہوں تو کیا ہوگا؟

ماہرینِ حشرات کے مطابق اگر کسی چیونٹی کے اینٹینا متاثر ہو جائیں تو اس کے لیے زندہ رہنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ نہ صرف راستہ بھول جاتی ہے بلکہ خوراک تلاش نہیں کر پاتی۔ اپنی کالونی کی دوسری چیونٹیوں کو نہیں پہچانتی، خطرات کا اندازہ نہیں لگا سکتی اور کیمیائی پیغامات بھی وصول نہیں کر سکتی۔

دنیا میں چیونٹیوں کی کتنی اقسام ہیں؟

2016 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق صرف انڈیا میں چیونٹیوں کی 828 اقسام اور ذیلی اقسام ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جب کہ 2024 میں تمل ناڈو میں ہونے والی ایک تحقیق میں رہائشی علاقوں سمیت مختلف ماحول میں 34 مختلف اقسام کی چیونٹیاں پائی گئیں۔

اگرچہ اقسام مختلف ہیں، لیکن تقریباً تمام چیونٹیاں خوراک تلاش کرنے، راستہ بنانے اور ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے لیے یہی کیمیائی نظام استعمال کرتی ہیں۔

چیونٹیاں کسی جادو کی وجہ سے میٹھی چیزوں تک نہیں پہنچتیں بلکہ ان کے پاس لاکھوں برس کے ارتقا سے تیار ہونے والا ایک نہایت مؤثر قدرتی نظام موجود ہے۔

ان کے اینٹینا، ذائقہ محسوس کرنے والے ریسیپٹرز، فیرومونز اور اجتماعی تعاون انہیں یہ صلاحیت دیتے ہیں کہ وہ نہ صرف چینی کے ایک دانے کا سراغ لگا سکیں بلکہ چند ہی منٹوں میں پوری کالونی کو بھی اسی مقام تک پہنچا دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اکثر صبح اٹھتے ہی میٹھی چیزوں کے گرد چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار دکھائی دیتی ہے۔