رپورٹس کے مطابق ایرانی بحریہ کے اس بیڑے میں پانچ سو سے ایک ہزار تک چھوٹی مگر انتہائی تیز رفتار حملہ آور کشتیاں شامل ہیں، جو اچانک کارروائی کرکے فوری طور پر منظر سے غائب ہو جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی حکمتِ عملی بڑی امریکی بحری قوت کے لیے چیلنج بن رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے اس حکمتِ عملی کی بنیاد 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران رکھی تھی۔ بعد ازاں خلیج فارس میں ٹینکر جنگ کے دوران تہران نے محسوس کیا کہ روایتی بحری طاقت کے ذریعے امریکا کا مقابلہ ممکن نہیں، جس کے بعد چھوٹی تیز رفتار کشتیوں پر مشتمل اس بیڑے کو دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ بنا لیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ کشتیاں پانی کی سطح کے بہت قریب رہتی ہیں، جس کے باعث ریڈار پر آسانی سے نظر نہیں آتیں۔ ان کی نگرانی کے لیے مسلسل ڈرونز، جنگی ہیلی کاپٹروں اور جدید نگرانی کے نظام کی ضرورت پڑتی ہے، جس سے امریکا کو بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کشتیاں مختلف سمتوں سے اچانک حملے، بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کے قریب فائرنگ جیسی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کو دنیا کے خطرناک ترین بحری راستوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ جہاں پہلے روزانہ ساٹھ سے زائد جہاز گزرتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر دس سے بھی نیچے آ گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق اس صورتحال سے تقریباً پندرہ سو جہاز اور بیس ہزار سے زائد عملے کے ارکان متاثر ہو رہے ہیں، جب کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور توانائی کے بحران سے متعلق خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ حکمتِ عملی ایک بار پھر ثابت کر رہی ہے کہ جدید جنگوں میں صرف بڑی فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ غیر روایتی حربے بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔






