دوسری جانب اسلام آباد ہی کے ایک اور علاقے، شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ یہ کوئی عام عمارت نہیں بلکہ وہ رہائشی منصوبہ ہے جہاں ملک کے بااثر افراد، یعنی سیاستدان، بیوروکریٹس اور دیگر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد مقیم ہیں۔

یہاں بھی کارروائی کا فیصلہ موجود ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کے لیز منسوخی کے فیصلے کو برقرار رکھا، یعنی قانون نے اپنا راستہ واضح کر دیا تھا، تاہم اس کے باوجود فوری کارروائی نہیں کی گئی۔

جہاں بری امام میں فوری طور پر بلڈوزر چلا دیے گئے، وہیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں کارروائی روک دی گئی۔ وزیراعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، اور جب تک اس کمیٹی کی رپورٹ سامنے نہیں آتی، کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

اس منصوبے کی تفصیلات کے مطابق یہ ساڑھے 13 ایکڑ رقبے پر مشتمل ایک کثیر المقاصد ڈیولپمنٹ ہے جس میں لگژری اپارٹمنٹس، شاپنگ مال، دفاتر اور فائیو اسٹار ہوٹل شامل ہیں۔

تاہم سی ڈی اے کے مطابق 2004 میں یہ زمین صرف ہوٹل کی تعمیر کے لیے 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی، لیکن بعد میں اسے رہائشی فلیٹس اور کمرشل سرگرمیوں میں تبدیل کر دیا گیا، جو واضح خلاف ورزی ہے۔

اسی بنیاد پر 2016 میں لیز منسوخ کی گئی۔ معاملہ عدالتوں میں پہنچا جہاں ہائیکورٹ نے بھی اسے غیر قانونی قرار دیا۔ بعد ازاں 2019 میں سپریم کورٹ نے ایک موقع دیا کہ واجب الادا رقم ادا کر کے معاملہ حل کیا جائے۔

لیکن سی ڈی اے کے مطابق 17 ارب روپے کی ادائیگی کے بجائے صرف 2 ارب 90 کروڑ روپے جمع کرائے گئے، جس پر شرائط پوری نہ ہونے اور ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کا معاملہ برقرار رہا۔ نتیجتاً 2023 میں لیز دوبارہ منسوخ کر دی گئی۔

یہ تمام تفصیلات سرکاری ریکارڈ، عدالتی فیصلوں اور تحقیقات کا حصہ ہیں، جبکہ معاملہ ایف آئی اے اور نیب تک بھی پہنچ چکا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جب تمام حقائق واضح ہیں تو کارروائی میں تاخیر کیوں ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں رہنے والے عام شہری نہیں بلکہ بااثر افراد ہیں؟

حکومتی موقف کے مطابق وزیرِ مملکت برائے اطلاعات طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ریاست سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے گی، چاہے امیر ہو یا غریب۔

تاہم زمینی حقیقت میں تضاد واضح نظر آتا ہے۔ بری امام میں نہ کوئی کمیٹی بنی، نہ مہلت دی گئی اور نہ ہی ریویو کا عمل ہوا، جبکہ فوری کارروائی کی گئی۔ اس کے برعکس ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں کارروائی روک دی گئی اور معاملہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

یہی تضاد ایک بڑا سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا اس ملک میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا طاقت اور اثر و رسوخ اس کے اطلاق کو بدل دیتے ہیں؟

یہ صرف ایک عمارت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک طرزِ عمل اور نظامِ انصاف پر سوال ہے، جہاں بظاہر غریب آسان ہدف اور طاقتور کو رعایت ملتی دکھائی دیتی ہے۔