کووڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران چین کی جانب سے تقریباً 40 لاکھ ڈالر، یعنی ایک ارب 11 کروڑ روپے کی گرانٹ سے یہ خصوصی آئسولیشن ہسپتال تعمیر کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد صرف کورونا وائرس سے نمٹنا نہیں تھا بلکہ مستقبل میں کسی بھی وبا یا متعدی بیماری کی صورت میں پاکستان کو ایک جدید اور مستقل انفیکشس ڈیزیز سینٹر فراہم کرنا بھی تھا۔

40 کنال اراضی پر قائم اس ہسپتال میں تقریباً 250 سے 265 بستروں کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ یہاں ایک ہی وقت میں پانچ مختلف متعدی بیماریوں کے مریضوں کو الگ الگ رکھنے اور علاج کرنے کی سہولت موجود تھی۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن، طبی عملے کی تربیت، تحقیق، جدید وینٹیلیشن سسٹم، خصوصی ویسٹ مینجمنٹ اور عالمی معیار کے آئسولیشن سسٹمز بھی اس منصوبے کا حصہ تھے، جو اسے عام سرکاری ہسپتالوں سے مختلف بناتے تھے۔

تاہم کورونا وبا کے خاتمے اور عمران خان کی حکومت کے اختتام کے بعد یہ ہسپتال بتدریج غیر فعال ہو گیا اور پھر مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ گزشتہ چار برس سے اس عمارت میں طبی سرگرمیاں معطل ہیں۔


وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق ہسپتال طویل عرصے تک بند رہنے کے باعث وہاں نصب کئی جدید مشینیں خراب اور ناکارہ ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا وبا ختم ہونے کے بعد خصوصی آئسولیشن سینٹر کی ضرورت کم ہو گئی تھی، جس کے باعث اسے فعال نہیں رکھا گیا۔

دوسری جانب اس منصوبے سے وابستہ ماہرین اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ہسپتال صرف کورونا کے لیے نہیں بنایا گیا تھا بلکہ اسے مستقبل میں کسی بھی وبا، زلزلے، سیلاب یا دیگر صحت کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح کے انفیکشس ڈیزیز سینٹر، ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور ٹریننگ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اتنے جدید طبی انفراسٹرکچر کو غیر فعال چھوڑ دینا قومی وسائل کے ضیاع کے مترادف ہے۔

اب حکومت اس ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آؤٹ سورس کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق آئسولیشن وارڈ کا ایک حصہ برقرار رکھا جائے گا، جبکہ باقی عمارت کو جنرل ہسپتال کے طور پر چلایا جائے گا۔ تاہم اس فیصلے کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ نے دینی ہے۔


یہ معاملہ صرف ایک بند ہسپتال کا نہیں بلکہ قومی منصوبہ بندی، پالیسی کے تسلسل اور صحت کے شعبے میں حکومتی ترجیحات کا بھی ہے۔ ایک ایسا منصوبہ جس پر اربوں روپے خرچ ہوئے، جو عالمی وبا کے دوران امید اور تیاری کی علامت تھا، آج ویرانی کی تصویر بنا ہوا ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ہر نئی حکومت سابق حکومت کے منصوبوں کو نظرانداز یا غیر فعال کرتی رہے تو اس کا نقصان آخر کس کو ہوگا؟ سیاسی جماعتوں کو یا ان لاکھوں شہریوں کو، جو بہتر طبی سہولتوں کے منتظر ہیں؟ صحت جیسے بنیادی شعبے میں پالیسیوں کا تسلسل اور قومی اثاثوں کا مؤثر استعمال ہی وہ راستہ ہے جو مستقبل میں ایسے قیمتی منصوبوں کو بند ہونے سے بچا سکتا ہے۔