ٹیلی نار کے مطابق یہ معاہدہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کمپنی آریز کے ساتھ طے پایا ہے، جو کھُن سپاچائی چیراوانونٹ کی ملکیت ہے۔ معاہدے کے تحت ٹیلی نار ابتدائی مرحلے میں ٹرو کارپوریشن میں اپنے 24.95 فیصد حصص فروخت کرے گا، جب کہ باقی 5.35 فیصد حصص ابتدائی معاہدے کی تکمیل کے دو سال بعد فروخت کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ ٹیلی نار 1990 کی دہائی سے ایشیا کے ٹیلی کام شعبے میں ایک بڑا سرمایہ کار رہا ہے اور بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور پاکستان میں اپنے آپریشنز چلاتا رہا ہے۔ تاہم کمپنی نے حالیہ برسوں میں واضح کیا ہے کہ صنعت کے پختہ ہونے کے ساتھ وہ ممکنہ سودوں اور سرمایہ کاری سے نکلنے کے مواقع کے لیے بھی تیار ہے۔
نجی اخبار ڈان نیوز کے مطابق ٹیلی نار کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بینیڈکٹ شلبریڈ فاسمر نے ایک بیان میں کہا کہ دسمبر میں ٹیلی نار پاکستان کی فروخت کی تکمیل اور ٹرو کارپوریشن میں حصص فروخت کرنے کے اس معاہدے کے ساتھ کمپنی نے اپنی طویل المدتی حکمتِ عملی پر عملدرآمد کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔
کمپنی کے مطابق ایشیا میں اس کے دیگر اثاثے بھی ممکنہ سودوں کی زد میں آ سکتے ہیں، جن میں ملائیشیا کی کلکوم دگی شامل ہے، جہاں ٹیلی نار کے پاس 33.1 فیصد حصص ہیں، جب کہ بنگلہ دیش کی گرامین فون میں کمپنی کے 55.8 فیصد حصص موجود ہیں۔
ٹیلی نار کے چیف فنانشل آفیسر ٹوربجورن وِسٹ نے رائٹرز کو بتایا کہ فی الحال کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم اگر موزوں مواقع سامنے آئے تو ان پر غور کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی اس وقت ملائیشیا اور بنگلہ دیش میں موجود اپنے اثاثوں کی قدر بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔
Telenor sells its stake in Thailand s True Corporation for $3.9 billion https://t.co/KUGyvBud7g
— Reuters Asia (@ReutersAsia) January 22, 2026
واضح رہے کہ ٹرو کارپوریشن تقریباً 60 ملین صارفین کے ساتھ تھائی لینڈ کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں میں شامل ہے۔
ٹیلی نار کا کہنا ہے کہ ابتدائی حصص کی فروخت مکمل ہونے پر موجودہ زرِ مبادلہ کی شرح کے مطابق کمپنی کو 14.7 ارب نارویجن کراؤنز کا اکاؤنٹنگ منافع حاصل ہوگا، جب کہ اس آمدنی کے استعمال سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ ماہ جاری کی جائیں گی۔
کمپنی کے مطابق اس سرمایہ کاری کی تکمیل سے ملازم سرمائے پر منافع میں بہتری آئے گی اور نورڈک خطے میں اپنے بنیادی کاروبار پر توجہ مرکوز کرنے کے ہدف کو مزید تقویت ملے گی۔





