اس سوال کا جواب طبیعیات کے تین بنیادی اصولوں میں پوشیدہ ہے: حرکت، کششِ ثقل اور جمود۔
حرکت سے مراد کسی شے کا چلنا یا حرکت میں ہونا ہے۔ خلا میں اجسام انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمین سورج کے گرد تقریباً 107200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کرتی ہے۔ خلا میں رفتار کو اکثر کلومیٹر فی سیکنڈ میں ناپا جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فلکیاتی اجسام کس قدر تیزی سے حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔
کششِ ثقل وہ قوت ہے جو کسی جسم کی کمیت کے باعث دوسرے اجسام کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ جدید طبیعیات کے مطابق بڑی کمیت رکھنے والے اجسام اپنے گرد موجود زمان و مکان کو خمیدہ بنا دیتے ہیں۔ اس کی مثال یوں دی جاتی ہے جیسے کسی کھینچی ہوئی چادر پر ایک بھاری گیند رکھی جائے تو چادر نیچے کی طرف جھک جاتی ہے اور چھوٹی چیزیں اس بھاری گیند کی طرف لڑھکنے لگتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ کششِ ثقل دونوں طرف سے اثر انداز ہوتی ہے۔ زمین ایک ہلکی گیند کو اپنی طرف کھینچتی ہے، لیکن وہ ہلکی گیند بھی زمین کو اتنی ہی قوت سے کھینچتی ہے۔ تاہم چونکہ زمین کی کمیت بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے حرکت صرف چھوٹی گیند میں نمایاں نظر آتی ہے جبکہ زمین کی حرکت محسوس نہیں ہوتی۔ یہی اصول بتاتا ہے کہ بڑے فلکیاتی اجسام ایک دوسرے کی حرکت کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔
جمود اس رجحان کو کہتے ہیں جس کے تحت کوئی شے اسی حالت میں رہتی ہے جس میں وہ موجود ہو، جب تک کوئی قوت اس کی حالت کو تبدیل نہ کرے۔ مثال کے طور پر میز پر رکھا ہوا ایک کپ اسی وقت حرکت کرے گا جب کوئی اسے دھکا دے۔ اگر اسے دھکا دیا جائے تو وہ سیدھی سمت میں حرکت کرے گا، جب تک کوئی دوسری قوت، جیسے کششِ ثقل، اس کی سمت تبدیل نہ کرے۔
یہی تین اصول اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ سیارے سورج کے گرد کیوں گردش کرتے ہیں۔ سیارے مسلسل کششِ ثقل کے باعث سورج کی طرف کھنچتے رہتے ہیں، لیکن ان کے پاس آگے کی سمت میں رفتار اور جمود بھی موجود ہوتا ہے۔ چونکہ وہ بہت تیزی سے حرکت کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے وہ سورج کی طرف گرتے ہوئے بھی ہر لمحہ اس سے ذرا سا آگے نکل جاتے ہیں اور یوں ایک مستحکم مدار بن جاتا ہے۔
خود سورج بھی خلا میں ساکن نہیں ہے بلکہ ایک بڑے نظام کا حصہ ہے۔ سورج ہماری کہکشاں کے مرکز میں موجود عظیم سیاہ شگاف کے گرد گردش کرتا ہے۔ پورا شمسی نظام اسی حرکت کے ساتھ خلا میں سفر کر رہا ہوتا ہے۔
اسی طرح ہماری کہکشاں بھی کائنات میں موجود کہکشاؤں کے ایک بڑے مجموعے کا حصہ ہے اور وہ بھی حرکت میں ہے۔ بڑے پیمانے پر کہکشائیں ایک دوسرے کے گرد گھومتی رہتی ہیں اور یوں کائنات مسلسل حرکت میں رہنے والے نظاموں کا ایک وسیع جال بن جاتی ہے۔
اس طرح چاند سیاروں کے گرد، سیارے ستاروں کے گرد، ستارے کہکشاؤں کے مرکز کے گرد اور کہکشائیں ایک دوسرے کے ساتھ حرکت میں رہتی ہیں۔ حرکت، کششِ ثقل اور جمود مل کر ان تمام اجسام کو پیچیدہ مگر مستحکم نظام میں باندھے رکھتے ہیں۔
اسی وجہ سے سورج جیسے بڑے اجسام خلا میں نہ تو کہیں بہہ کر چلے جاتے ہیں اور نہ ہی ساکن رہتے ہیں، بلکہ وہ بھی کائنات کی ایک عظیم اور مسلسل جاری رہنے والی حرکت کا حصہ ہوتے ہیں۔






