ذرائع کے مطابق اس پیش رفت سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی آگاہ کیا جائے گا، کیونکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) ایک لسٹڈ ادارہ ہے اور یو فون اس کی ذیلی کمپنی ہے۔

پی ٹی سی ایل حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر مزید بورڈ منظوری درکار نہیں، کیونکہ ٹیلی نار پاکستان کے حصول اور انضمام کے لیے تمام ضروری اجازتیں پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہیں۔ اب جلد ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں انضمام کی باضابطہ درخواست دائر کی جائے گی۔

حکام کے مطابق قانونی عمل تقریباً چار ہفتوں میں مکمل ہونے کا امکان ہے، جس دوران عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ کمپنیوں کے خلاف کوئی زیر التوا مقدمات، بینک قرضے، ٹیکس تنازعات یا صارفین سے متعلق مسائل تو موجود نہیں۔

اس عمل میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت دیگر اداروں سے بھی رائے لی جائے گی۔

پی ٹی اے کی منظوری کے بعد یو فون کو ٹیلی نار پاکستان کے ساتھ تکنیکی انضمام شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ دونوں کمپنیوں کی ٹیمیں نیٹ ورک اور اسپیکٹرم کو یکجا کریں گی، جب کہ ملک بھر میں موجود تقریباً 26 ہزار ٹاورز میں سے کچھ کو مرحلہ وار کم کیا جا سکتا ہے۔

اتھارٹی نے یہ شرط عائد کی ہے کہ مشترکہ طور پر استعمال ہونے والے ٹاورز فوری طور پر بند نہیں کیے جائیں گے، جب کہ کسی بھی فرنچائز کا معاہدہ ختم کرنے سے کم از کم چھ ماہ پہلے نوٹس دینا لازم ہوگا۔

حکام کے مطابق ٹیلی نار کے صارفین کے سم نمبر بدستور یو فون نیٹ ورک پر فعال رہیں گے۔

ملک میں موبائل صارفین کی مجموعی تعداد 20 کروڑ سے زائد ہے، جب کہ انضمام کے بعد نئی کمپنی کے صارفین کی تعداد تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم دو سم استعمال کرنے والے صارفین کے باعث مجموعی تعداد میں تقریباً 10 فیصد کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔