وفاقی حکومت نے اس منصوبے کی اصولی منظوری دے دی ہے جبکہ فروری 2026 تک نیلامی کے انعقاد کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے ملک میں تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ، جدید ڈیجیٹل سہولیات اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کے فروغ میں نمایاں بہتری آنے کی امید ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی جانب سے اصولی منظوری کو ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے لیے مضبوط سیاسی عزم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت جلد نیلامی سے متعلق قواعد، بیس قیمتیں اور لائسنسنگ کی شرائط جاری کرے گی تاکہ ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے طریقہ کار واضح ہو سکے۔
نیلامی کے عمل میں مختلف فریکوئنسی بینڈز کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کی جائیں گی جبکہ بولی کے طریقہ کار، لائسنس کی مدت اور ادائیگی کے شیڈول کی تفصیلات بھی سامنے لائی جائیں گی۔ ٹیلی کام کمپنیوں پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی جائے گی کہ وہ مقررہ کوریج اور سروس ڈپلائمنٹ کے اہداف پورے کریں۔
اس اسپیکٹرم نیلامی کے نتیجے میں ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ، اسمارٹ سٹیز، ٹیلی میڈیسن اور ای گورننس جیسی جدید سہولیات کے فروغ کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، انفراسٹرکچر کی ترقی اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔






