عالمی سطح پر بڑھتے سیکیورٹی تنازعات کے باعث جنگی طیاروں اور دفاعی ہتھیاروں کی مانگ میں تیزی آئی ہے اور پاکستان اس صورتحال کو ایک معاشی موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت زیادہ تر ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات کی برآمدات پر انحصار کرتی رہی، مگر اب ملک دفاعی صنعت کے ذریعے ایک نئی شناخت بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی گولا بارود، چھوٹے ہتھیار، بکتر بند گاڑیاں اور تربیتی طیارے برآمد کرتا رہا ہے، تاہم ان سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود رہی ہے۔ اب دفاعی برآمدات میں سب سے زیادہ توجہ JF-17 تھنڈر پر مرکوز ہے، جو ایک ملٹی رول لائٹ فائٹر جیٹ ہے۔
سن 2024 میں کراچی میں ہونے والی دفاعی نمائش IDEAS 2024 کے بعد پاکستان نے متعدد ممالک کے ساتھ درجنوں مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اگر یہ مفاہمتیں مکمل دفاعی معاہدوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں تو اندازہ ہے کہ پاکستان کو تقریباً 30 ارب ڈالر تک کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔
اگر پاکستان چند درجن JF-17 بلاک تھری طیارے بھی فروخت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے مختصر وقت میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اس منصوبے کی ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ JF-17 تھنڈر مکمل طور پر پاکستانی طیارہ نہیں بلکہ یہ پاکستان اور چین کا مشترکہ پروگرام ہے، جسے Pakistan Aeronautical Complex میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پہلا پروٹوٹائپ 2003 میں فضا میں اڑا تھا جبکہ اس کے کئی اہم پرزے چین میں تیار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بڑی برآمدات کے لیے چین کی منظوری بھی ضروری ہو سکتی ہے۔
پاکستان پہلے ہی نائجیریا اور میانمار کو یہ طیارے فروخت کر چکا ہے جبکہ انڈونیشیا، بنگلہ دیش، لیبیا اور سوڈان سمیت کئی دیگر ممالک سے مذاکرات جاری ہیں
اس حوالے سے اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ آذربائجان کے ساتھ بتایا جاتا ہے جس کی مالیت تقریباً 4.6 ارب ڈالر ہے اور اس میں درجنوں JF-17 بلاک تھری طیارے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
سپریم لیڈر کی شہادت کا بدلہ لینے تک دشمنوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی، ایران
JF-17 کی سب سے بڑی طاقت اس کی نسبتاً کم قیمت ہے۔ ایک طیارے کی قیمت تقریباً 30 سے 40 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے، جو کئی مغربی جنگی طیاروں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ مثال کے طور پر بھارت نے فرانس کے ساتھ رافال طیاروں کے لیے جو معاہدہ کیا اس میں فی طیارہ لاگت کہیں زیادہ رہی۔ دفاعی معاہدوں میں صرف طیارہ ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ تربیت، سپیئر پارٹس، ہتھیار اور کئی برسوں کی تکنیکی معاونت بھی پیکج کا حصہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مجموعی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب بھی باقی ہے اور وہ یہ کہ اعلانات اور مذاکرات کو حقیقی معاہدوں میں کیسے بدلا جائے اور اپنی پیداواری صلاحیت کو کس طرح بڑھایا جائے تاکہ عالمی طلب کو پورا کیا جا سکے
اگر پاکستان اس مرحلے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ JF-17 تھنڈر صرف ایک جنگی طیارہ نہ رہے بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئی امید بھی ثابت ہو۔






