ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایک منظم واٹس ایپ ہائی جیکنگ مہم 2026 کے تحت صارفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس میں ہیکرز مختلف طریقوں سے صارفین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام نے واٹس ایپ صارفین کو سائبر خطرات کے پیش نظر انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے مطابق ہیکرز زیادہ تر او ٹی پی فراڈ (OTP Scams) کے ذریعے صارفین کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس طریقۂ واردات میں صارفین کو جعلی پیغامات یا کالز کے ذریعے واٹس ایپ کا ویری فکیشن کوڈ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے بعد اکاؤنٹ مکمل طور پر ہائی جیک کر لیا جاتا ہے۔

ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ اکاؤنٹ ہائی جیک ہونے کی صورت میں ہیکرز صارف کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس میں چیٹ ہسٹری، تصاویر، ویڈیوز، میڈیا فائلز اور ذاتی گفتگو شامل ہے۔ مزید یہ کہ اٹیکرز متاثرہ صارف کی کنٹیکٹ لسٹ استعمال کرتے ہوئے دیگر افراد سے پیسے مانگنے یا فراڈ پیغامات بھیجنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 5جی سروس کی تیاری آخری مراحل میں، کون سے صارفین سب سے پہلے اس سہولت سے مستفید ہوں گے؟

حکام نے واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ صارفین کبھی بھی 6 ہندسوں پر مشتمل ایس ایم ایس ویری فکیشن کوڈ یا ٹو اسٹیپ ویری فکیشن پن کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، چاہے سامنے والا شخص خود کو واٹس ایپ نمائندہ یا قریبی دوست ہی کیوں نہ ظاہر کرے۔ اس کے علاوہ وائس کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہونے والے کسی بھی کوڈ کو شیئر کرنے سے سختی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کا کہنا ہے کہ صارفین فوری طور پر ٹو اسٹیپ ویری فکیشن فعال کریں، مشکوک لنکس پر کلک نہ کریں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی صورت میں واٹس ایپ سپورٹ یا متعلقہ سائبر حکام کو اطلاع دیں۔

حکام کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرکے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو سائبر حملوں سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ ذرا سی غفلت سنگین مالی اور ذاتی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔