سردی اور گرمی کے موسم سکڑ کر ایک سے ڈیڑھ ماہ کے دورانیے پر رک سے گئے ہیں، بات پاکستان کی کی جائے تو یہاں چار ہی موسم ہیں جو سرد، گرم، بہار اور خزاں، کیا کوئی نیا موسم جنم لے رہا ہے؟
سردیاں شروع ہوتے ہی پاکستان کے تاریخی شہرلاہور اور اس کے گرد و نواح میں دھند چھا جاتی ہے۔ یہ آنکھوں میں جلن بھی پیدا کرتی ہے اور ’آنسو‘ بھی لاتی ہے۔
گزشتہ 10 سال سے یہی ہورہا ہے، مگر 2024 میں تو اس کی شدت میں کچھ زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ سموگ کا موسم اکتوبر کے آخری ہفتے میں شروع ہوا، نومبر تک جاری رہا۔ نومبر کے پہلے ہفتے تو لاہور کی ائیر کوالٹی شدید متاثر ہوئی،لاہور نے کئی بار نمبرون ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔
10 نومبر 2024 کو ناسا نے ایک تصویر جاری کی، جو پاکستان کے لیے پریشان کن تھی اور لاہوریوں کے لیے تو حیران کن۔اس تصویر میں دیکھا گیا کہ پاکستان کا صوبہ پنجاب گہرے بادلوں کی لپیٹ میں ہے۔
اس تصویرکو دنیا کے میڈیا نے دکھایا، دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں کبھی لاہور تو کبھی انڈیا کا دارالحکومت دہلی نمبرون رہا۔ اسی طرح پاکستانی پنجاب کے دیگر شہر فیصل آباد، ملتان اور خیبر پختونخوا کا شہرپشاور بھی اس دوڑ میں شامل رہا۔
شکاگو یونیورسٹی کے ماہرین نے خبردارکیا ہے کہ فضائی آلودگی یوں ہی بڑھتی رہی تو بڑے شہرانسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے، ایسی صورتحال میں انسانوں کی اوسط زندگی پونے چارسال تک کم ہوجائے گی ۔
کورونا کی طرح سموگ کے بارے میں عجیب و غریب طرح کے خیالات ہیں، مگر ماہرین کے مطابق سموگ کا لفظ پہلی بار دنیا میں 1905 میں استعمال ہوا، اس وقت برطانیہ کے شہرسموگ سے بہت متاثر ہوئے تھے۔
1909 میں صرف گلاسگو اور ایڈنبرا میں ایک ہزار سے زیادہ افرادلقمہ اجل بن گئے تھے، آج جدید دور میں صنعتی ممالک نہیں بلکہ بنگلہ دیش، پاکستان اور انڈیا بالترتیب آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔
سوال یہ بھی ہے کہ جب پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش صنعتی ملک نہیں تو پھر یہاں سموگ کیسے آئی اور کیا ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ داربھی یہی ممالک ہیں یا کوئی اور؟
سابق وزیرموسمیاتی تبدیلی سینیٹرشیری رحمـٰن نے کہا تھا کہ ’موسمیاتی تبدیلی صرف پاکستان کا نہیں عالمی مسئلہ ہے‘۔ یقیناً یہ عالمی مسئلہ ہے پاکستان کا نہیں ہے، ذمہ دار بھی وہی ہیں جو فضا کو برباد کررہے ہیں۔
اسی طرح سابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کوپ 27عالمی کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلی کوعالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کمزور ممالک کی مدد کرنے کی تجویز دی تھی ۔
موسمیاتی تبدیلیوں پرتحقیق کرنے والے ادارے گلوبل چینج امپیکٹ سینٹر (جی سی آئی ایس سی) کی رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں سے پتا چلتا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں پاکستان کے اوسط درجہ حرارت میں اضافے کی نسبت زیادہ تیزی سے رونما ہوگی۔
پاکستان کے موسم پر برسوں سے نظررکھنے والے عالمی تھنک ٹینک ’جرمن واچ‘ نے پاکستان کو ان 10 ممالک میں شامل کررکھاہے، جو شدید متاثر ہیں۔ اس ادارے کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی کے ہر یونٹ پراعشاریہ 52 فیصد نقصان موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہورہا ہے۔
اینڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول بتاتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی سے پاکستان کے پہاڑی علاقے گلگت بلتستان اور چترال میں برف باری کے اوقات تبدیل ہوئے، جوبرفباری دسمبر اور جنوری میں ہوتی تھی اب فروری اور مارچ میں ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح سندھ اور بلوچستان بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کا شکار رہے ہیں۔ اب چونکہ زیادہ بارشیں ہورہی ہیں تو ان علاقوں میں سیلاب آرہے ہیں۔
موسم تو پاکستان میں چارہی ہیں، مگردعویٰ تو یہ بھی ہے کہ موسم 12 ہیں،موسم چار ہوں یا 12 مگرتبدیل ہوتی صورتحال تشویشناک ہے۔
پاکستان کی وفاقی اورپنجاب کی حکومت اپنے تئیں کوششیں بھی کررہی ہیں اور دعوے بھی مگر نتائج خاطر خواہ برآمد ہوتے نظر نہیں آتے۔یہ مسئلہ تب تک مسئلہ رہ سکتا ہے جب تو عالمی سطح پر کوششیں تیز نہیں کی جاتیں۔






