یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک میں بھی بچوں کو شہد دینے کا رواج پایا جاتا ہے۔اسی حوالے سے سعودی عرب میں مقیم ماؤں پر 2022 میں کیے گئے ایک آن لائن سروے میں 52 فیصد خواتین نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو شہد دیتی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق تحقیق کے ذریعے خبردار کیا گیا ہے کہ چھوٹے یا نومولود بچوں کو شہد دینا ہاضمے کے نظام سے لے کر سانس کے مسائل تک مختلف پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
اس مضمون میں اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا شہد بچوں، بالخصوص شیر خوار بچوں کو دیا جا سکتا ہے اور اگر شہد آلودہ ہو جائے تو اس کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق نومولود بچوں کو شہد دینے سے متلی، الٹی اور خوراک نگلنے میں دشواری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحقیق میں شہد کے استعمال سے بچوں کو لاحق دیگر پیچیدگیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مطالعے کے مطابق چھوٹے بچوں کو شہد دینا چہرے کے پٹھوں میں سکڑاؤ یا کھنچاؤ، آنتوں کے مسائل، دماغی نقصان اور جسم کے درجہ حرارت میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد پلانے سے بوٹولزم نامی ایک سنگین بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ بچوں کو شہد براہِ راست نہیں دینا چاہیے، بلکہ اگر ضرورت ہو تو صرف ڈاکٹر کے مشورے سے بچوں کی خوراک، پانی یا مائع غذا میں شامل کیا جانا چاہیے۔
پاکستان میں 2012 کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پیدائش کے فوراً بعد 15.6 فیصد بچوں کو ماں کے دودھ سے پہلے شہد پلایا جاتا تھا اور گھر کے بزرگ اس روایتی فیصلے کے ذمہ دار تھے۔https://t.co/15LlhxNPfL
— BBC News اردو (@BBCUrdu) January 26, 2026
ماہرِ اطفال ودیا کے مطابق بچوں کو چھ ماہ کی عمر تک ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں دینا چاہیے، حتیٰ کہ پانی بھی نہیں۔ بعض والدین کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے کافی نہیں، اور یہی سوچ بوٹولزم جیسی بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ نوزائیدہ بچوں کا مدافعتی نظام ناپختہ ہوتا ہے اور ان میں خوراک ہضم کرنے کی صلاحیت بھی محدود ہوتی ہے، اسی لیے ہسپتالوں میں بچوں کی خوراک پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق اگر شہد کو نامناسب طریقے سے محفوظ کیا جائے تو اس میں نقصان دہ بیکٹیریا، خصوصاً کلوسٹریڈیم بوٹولینم کے اسپورز پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا بچوں کی آنتوں میں زہریلے مادے پیدا کرتے ہیں، جو انفینٹ بوٹولزم نامی ایک مخصوص فالج کا سبب بن سکتے ہیں۔
یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ایک اور تحقیق کے مطابق انفینٹ بوٹولزم ایک جان لیوا بیماری ہے، جو شدید اعصابی مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
پاکستان میں 2012 میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پیدائش کے فوراً بعد 15.6 فیصد بچوں کو ماں کے دودھ سے پہلے شہد پلایا جاتا تھا۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اس فیصلے کے پیچھے زیادہ تر گھر کے بزرگوں کی روایتی سوچ کارفرما ہوتی ہے۔





