ٹیکنالوجی سے متعلق رپورٹس کے مطابق گوگل کی جانب سے “امپورٹ اے آئی چیٹس” (Import AI Chats) نامی فیچر کی آزمائش کی جا رہی ہے، جو اس وقت جیمنائی کے ویب ورژن میں بیٹا آپشن کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
اس فیچر کے ذریعے صارفین چیٹ جی پی ٹی، گروک، کلاؤڈی یا دیگر مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس سے اپنی مکمل چیٹ ہسٹری جیمنائی میں منتقل کر سکیں گے۔ اس کا بنیادی مقصد صارفین کو پلیٹ فارم تبدیل کرتے وقت اپنی پرانی چیٹس، ترجیحات، منصوبوں اور ذاتی نوعیت کی معلومات سے محروم ہونے سے بچانا ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس وقت کے ساتھ صارف کی عادات، سوالات اور ترجیحات کو سمجھ کر زیادہ مؤثر اور ذاتی نوعیت کے جوابات فراہم کرتے ہیں۔ ایسے میں کسی نئے چیٹ بوٹ پر منتقل ہونا صارفین کے لیے مشکل ثابت ہوتا ہے، کیونکہ پرانی چیٹ ہسٹری اور پرسنلائزیشن ضائع ہو جاتی ہے۔
گوگل کا نیا فیچر اسی مسئلے کا حل پیش کرتا ہے، جس کے تحت صارفین کو سب سے پہلے اپنی پرانی اے آئی سروس سے چیٹ ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگا، بعد ازاں اس فائل کو جیمنائی پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیا جا سکے گا۔ اس عمل کے بعد جیمنائی صارف کی سابقہ چیٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر اور موزوں جوابات فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق فی الحال یہ فیچر چیٹ جی پی ٹی، گروک اور کلاؤڈی کے چیٹ ڈیٹا کو سپورٹ کر رہا ہے، جبکہ مستقبل میں مزید پلیٹ فارمز کو شامل کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کا یہ اقدام چیٹ جی پی ٹی کے بڑھتے ہوئے صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بیٹا ورژن میں فیچر کی موجودگی سے عندیہ ملتا ہے کہ بہت جلد اسے دنیا بھر کے صارفین کے لیے باضابطہ طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں مسابقت کے اس دور میں گوگل کا یہ نیا فیچر صارفین کے لیے سہولت اور کمپنی کے لیے اسٹریٹجک فائدہ دونوں ثابت ہو سکتا ہے۔






