امریکا کی نیورل انجینئرنگ کمپنی سائنس نے اپنی ریٹینا امپلانٹ ٹیکنالوجی کی تجارتی تیاری اور کلینیکل ٹرائلز کو تیز کرنے کے لیے 230 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے۔
یہ سرمایہ کاری کمپنی کے سیریز سی فنڈنگ راؤنڈ کے تحت حاصل کی گئی ہے، جس میں معروف سرمایہ کار اداروں کھوسلہ وینچرز، لائٹ اسپیڈ وینچر پارٹنرز، , Y Combinator, In-Q-Tel اور کوائیٹ کیپیٹل سمیت دیگر سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔
کمپنی کے مطابق سرمایہ کاروں کی دلچسپی اتنی زیادہ تھی کہ فنڈنگ راؤنڈ اوور سبسکرائب ہو گیا۔ اس نئی سرمایہ کاری کے بعد 2021 میں قیام کے بعد سے کمپنی کی مجموعی فنڈنگ تقریباً 490 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
کمپنی کی اہم ٹیکنالوجی پرائمہ ریٹائنل پلانٹ ہے، جو ایک برین کمپیوٹر انٹرفیس پر مبنی ریٹینا امپلانٹ ہے۔ یہ امپلانٹ ریٹینا میں مصنوعی فوٹو ریسیپٹرز کی طرح کام کرتا ہے اور بصری سگنلز کو ایسے ڈیٹا میں تبدیل کرتا ہے جسے دماغ سمجھ سکتا ہے۔
کلینیکل ٹرائلز کے نتائج کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اُن مریضوں میں فارم وژن یعنی اشکال اور حروف دیکھنے کی صلاحیت بحال کرنے میں کامیاب رہی ہے جو عمر سے متعلق میکولر انحطاط کے آخری مرحلے کے باعث نابینا ہو چکے تھے۔
ان نتائج کو دنیا کے معروف طبی جریدے دی نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع کیا گیا، جب کہ اس ٹیکنالوجی کو ٹائم کے سرورق پر بھی نمایاں کیا گیا۔
کمپنی اب اپنی تحقیق کو دیگر موروثی ریٹینا بیماریوں تک بھی وسعت دے رہی ہے، جن میں سٹارگارڈ کی بیماری اور ریٹینائٹس پگمنٹوسا شامل ہیں۔ یہ دونوں بیماریاں نوجوان افراد میں موروثی بینائی کے نقصان کی بڑی وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔
ابتدائی کلینیکل ٹرائلز آسٹریلیا کےسڈنی آئی اسپتال میں ماہرِ امراضِ چشم میتھیو سیمونووک کی نگرانی میں کیے جائیں گے۔
کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او میکس ہوڈک کا کہنا ہے کہ دماغ انسانی جسم کا وہ واحد عضو ہے جسے منتقل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے براہِ راست دماغ کے ساتھ کام کرنے والی ٹیکنالوجیز طبی میدان میں غیر معمولی نتائج دے سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صرف چند ایٹمز کی موٹائی ، سائنسدانوں نے مقناطیس کی ایک نایاب قسم دریافت کرلی
ان کے مطابق کمپنی کا مقصد ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے جو ان مریضوں کے لیے علاج فراہم کرے جن کے لیے اب تک کوئی مؤثر علاج موجود نہیں تھا۔
کمپنی اب یورپ میں اس ٹیکنالوجی کے لیے سی ای مارک کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جب کہ امریکا میں یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن سے ریگولیٹری منظوری کے لیے بھی درخواست دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی کامیابی سے عام استعمال کے لیے دستیاب ہو گئی تو یہ دنیا بھر میں نابینا افراد کے لیے بینائی کی بحالی کے میدان میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔






