یہ تحقیق سائنسی جریدے پی این اے ایس نیکسس میں شائع ہوئی ہے اور اسے جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے انجام دیا۔ محققین کے مطابق اس دریافت سے یہ نظریہ مضبوط ہوتا ہے کہ زندگی ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک منتقل ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اور مکینیکل انجینئر کلیات ٹی رمیش کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زندگی کسی سیارے سے خلا میں خارج ہو کر دوسرے سیارے تک پہنچ جائے، یہ دریافت اس سوال کو نئے انداز میں دیکھنے پر مجبور کرتی ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتدا کیسے ہوئی؟
اس تحقیق میں جس بیکٹیریا کا مطالعہ کیا گیا وہ ڈیینوکوکس ریڈیو ڈورانس ہے، جسے سائنسدان اکثر اس کی غیر معمولی مضبوطی کی وجہ سے کونن دی بیکٹیریا بھی کہتے ہیں۔
ماضی کی تحقیق سے معلوم ہو چکا ہے کہ یہ جرثومہ شدید سردی، طاقتور شعاعوں، سخت کیمیائی ماحول اور شدید خشک سالی جیسے حالات میں بھی زندہ رہ سکتا ہے۔
محققین نے تجربے کے دوران ایک تیز رفتار گیس گن کے ذریعے اس بیکٹیریا کے نمونوں پر شدید دباؤ ڈالا۔ یہ دباؤ تین گیگا پاسکل تک پہنچ گیا، جو زمین کے سب سے گہرے سمندری مقام کے دباؤ سے تقریباً 30 گنا زیادہ ہے۔
حیران کن طور پر زیادہ تر بیکٹیریا اس دباؤ کو برداشت کرنے میں کامیاب رہے اور بعد میں اپنی خراب شدہ ڈی این اے کو دوبارہ ٹھیک کر کے افزائش بھی کرنے لگے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں جسے لیتھوپانسپرمیا کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق سیارچوں کے ٹکرانے سے اڑنے والے پتھروں کے ساتھ جراثیم خلا میں جا سکتے ہیں اور دوسرے سیاروں تک پہنچ کر وہاں زندگی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق اگر کسی سیارے سے نکلنے والے ملبے میں جراثیم موجود ہوں تو وہ خلا کے سخت ماحول کو برداشت کرتے ہوئے دوسرے سیاروں تک پہنچ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بینائی سے محروم افراد کے لیے امید کی نئی کرن، دماغی چپ سے نظر بحال کرنے کی ٹیکنالوجی پر 230 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری
بعض ماہرین کا تو یہ بھی خیال ہے کہ ممکن ہے زمین پر زندگی کی ابتدا کسی زمانے میں مریخ سے آنے والے ایسے ہی پتھروں کے ذریعے ہوئی ہو۔
یہ تحقیق خلائی مشنز اور سیاروں کے درمیان جراثیمی آلودگی کو روکنے کے اصولوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سیاروں سے لائے جانے والے نمونوں کو زیادہ احتیاط کے ساتھ سنبھالنا پڑ سکتا ہے تاکہ زمین اور دیگر سیاروں کے ماحولیاتی نظام محفوظ رہ سکیں۔






