تفصیلات کے مطابق ای کامرس کمپنی کی سینئر نائب صدر بیتھ گیلیٹی نے بدھ کے روز ایک بلاگ پوسٹ کے ذریعے اس فیصلے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں 14 ہزار ملازمین کو برطرف کیے جانے کے بعد یہ تازہ کٹوتیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

بیتھ گیلیٹی کے مطابق امریکہ میں مقیم متاثرہ ملازمین کو ادارے کے اندر کسی دوسرے عہدے کے لیے درخواست دینے کی غرض سے 90 دن کا وقت دیا جائے گا۔ جو ملازمین نیا عہدہ حاصل نہ کر سکیں یا نئی ذمہ داری قبول نہ کرنا چاہیں، انہیں برطرفی کے معاوضے، نئی ملازمت کی تلاش میں معاونت اور ہیلتھ انشورنس سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان تبدیلیوں کے باوجود ایمیزون ان شعبوں میں بھرتی اور سرمایہ کاری جاری رکھے گا جو کمپنی کے مستقبل کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایمیزون نے 2023 میں مجموعی طور پر 27 ہزار ملازمتیں ختم کی تھیں، جس کے بعد یہ کمپنی کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی برطرفی قرار دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کا چھ ماہ سے غیر فعال سمز بند کرنے کا اعلان

یاد رہے کہ کورونا وبا کے دوران ایمیزون کی افرادی قوت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، کیونکہ لاکھوں افراد گھروں تک محدود ہو گئے تھے اور آن لائن خریداری میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم بعد ازاں ٹیک اور ریٹیل سیکٹر کی بڑی کمپنیوں نے اخراجات میں توازن لانے کے لیے ہزاروں ملازمتیں ختم کرنا شروع کر دیں۔

دوسری جانب امریکا میں ملازمتوں کی رفتار بھی سست پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ دسمبر میں ملک بھر میں صرف 50 ہزار نئی ملازمتیں فراہم کی گئیں، جو نومبر میں دی جانے والی 56 ہزار ملازمتوں کے نظرِ ثانی شدہ اعداد و شمار سے کم ہیں۔

اگرچہ مجموعی طور پر اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم افرادی قوت سے متعلق حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری ادارے نئی بھرتیوں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ وبا کے بعد کئی کمپنیوں نے جارحانہ انداز میں بھرتیاں کیں، لیکن اب ان کے پاس مزید ملازمتوں کی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بدلتی ہوئی ٹیرف پالیسیوں، بلند افراطِ زر اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے متعدد کاروباری ادارے نئی ملازمتوں کے اجرا سے گریز کر رہے ہیں۔