غیرملکی خبررساں اداروں کے مطابق 322 فٹ بلند اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ گزشتہ ماہ فلوریڈا میں قائم کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ پیڈ سے واپس وہیکل اسمبلی بلڈنگ (وی اے بی) منتقل کیا گیا تھا، جب ایندھن بھرنے کے کامیاب تجربے کے ایک دن بعد ہیلیم کی ترسیل میں مسئلہ سامنے آیا۔

یاد رہے کہ 21 فروری کو کیے گئے اہم فیولنگ ٹیسٹ میں ناسا نے راکٹ میں انتہائی ٹھنڈا ایندھن بھرا اور ہائیڈروجن لیک جیسے سابقہ مسئلے پر قابو پا لیا، تاہم اگلے ہی روز زمینی ٹیمیں راکٹ کے بالائی حصے میں ہیلیم گیس منتقل کرنے میں ناکام رہیں۔

چونکہ بالائی حصے کی امبیلکل لائنز تک رسائی صرف وہیکل اسمبلی بلڈنگ کے اندر ممکن ہے، اس لیے مشن منیجرز نے فوری طور پر راکٹ کو واپس وی اے بی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 25 فروری کو راکٹ عمارت میں پہنچا اور ایک ہفتے کے اندر انجینئرز نے مسئلے کی نشاندہی کر لی۔

ناسا کے مطابق ہیلیم کے بہاؤ میں رکاوٹ ایک  کوئیک ڈس کنیکٹ  نظام میں موجود سیل کی خرابی کے باعث پیدا ہوئی تھی، جو زمین سے راکٹ تک گیس کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ٹیم نے اس حصے کو نکال کر دوبارہ جوڑا اور کم رفتار سے ہیلیم بہا کر نظام کی جانچ کی، جس کے بعد مسئلہ حل ہونے کی تصدیق کی گئی۔

ناسا کے مطابق راکٹ کو دوبارہ لانچ پیڈ پر بھیجنے سے پہلے مزید تکنیکی کام مکمل کیے جائیں گے۔ ان میں فلائٹ ٹرمینیشن سسٹم کی نئی بیٹریوں کی تنصیب شامل ہے، جو راکٹ کو راستہ بھٹکنے کی صورت میں تباہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ کور اسٹیج، اپر اسٹیج اور سالڈ راکٹ بوسٹرز کی بیٹریاں تبدیل کی جائیں گی جبکہ اوریون خلائی جہاز کے لانچ ابورٹ سسٹم کی بیٹریاں ری چارج کی جائیں گی۔ راکٹ کے نچلے حصے میں مائع آکسیجن فیڈ لائن کی ایک سیل بھی تبدیل کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ناسا کا آرٹیمس پروگرام میں رد و بدل، چاند پر واپسی کے منصوبے کی نئی حکمت عملی کا اعلان

ناسا نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ لانچ سے قبل ایک اور کاؤنٹ ڈاؤن ریہرسل کی جائے گی یا نہیں۔ تاہم اپریل کے اوائل میں لانچ کے پانچ مواقع دستیاب ہیں، جن میں پہلا موقع یکم اپریل کو ہوگا۔

اس روز دو گھنٹے کی لانچ ونڈو شام 6 بج کر 24 منٹ (ای ڈی ٹی) پر کھلے گی۔ اس کے بعد 3، 4، 5 اور 6 اپریل کو بھی ممکنہ تاریخیں رکھی گئی ہیں۔

آرٹیمس ٹو 1972 کے بعد پہلی انسانی خلائی پرواز ہوگی جو چاند کے قریب جائے گی۔ یہ آرٹیمس پروگرام کا پہلا عملے پر مشتمل مشن ہے، جس کے تحت چار خلا باز اوریون خلائی جہاز میں سوار ہو کر چاند کے پچھلے حصے کے گرد چکر لگائیں گے اور پھر زمین پر واپس آئیں گے۔

ناسا کا ہدف ہے کہ اسی پروگرام کے تحت 2028 تک خلا بازوں کو چاند کی سطح پر دوبارہ اتارا جائے۔