اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 30 فیصد افراد کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہیں۔ یونیورسٹی آف لاہور میں حالیہ ناخوشگوار واقعات کے تناظر میں ویل بیئنگ سینٹر کا قیام ایک بروقت اور خوش آئند اقدام ہے، جس سے ایک جانب طلبہ کو ذہنی و نفسیاتی مسائل کے علاج میں سہولت میسر آئے گی اور دوسری جانب ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دیگر جامعات کو بھی ایسے سینٹرز قائم کرنے چاہئیں۔ ہمارے معاشرے میں ذہنی مسائل کو غلط طور پر  مینٹل  سے تعبیر کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

قاسم علی شاہ نے کہا کہ بیرونِ ممالک میں خوشی کو باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے اور موٹیویشنل اسپیکرز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جب کہ پاکستان میں اس حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


ڈائریکٹر ویل بیئنگ سینٹر پروفیسر ڈاکٹر شمائلہ اسد نے وفد کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یو او ایل ویل بیئنگ سینٹر میں طلبہ، اساتذہ اور اسٹاف کے لیے فری آف کاسٹ علاج معالجہ اور آگاہی فراہم کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے یونیورسٹی بھر میں اسسمنٹ کا ایک جامع پروگرام ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت اساتذہ، کلاس سی آر اور جی آر ذہنی مسائل کا شکار طلبہ کو سینٹر ریفر کریں گے، جب کہ طلبہ خود بھی براہِ راست سینٹر سے رجوع کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے وزیر تعلیم پنجاب سمیت اسمبلی کے 50 ارکان کی رکنیت معطل کیوں کر دی؟

پروفیسر ڈاکٹر شمائلہ اسد کا کہنا تھا کہ سینٹر میں کلینیکل سائیکالوجسٹ، کاؤنسلنگ سائیکالوجسٹ اور ہیلتھ سائیکالوجسٹ تعینات کیے گئے ہیں جو افراد کی اسسمنٹ اور رہنمائی فراہم کریں گے۔

خیال رہے کہ وفد میں معروف موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ، چیئرمین پی ایف یو سی و اینکر پرسن فرخ شہباز وڑائچ، مرکزی صدر فرید رزاقی، نائب صدر اظہر تھراج، سیکرٹری جنرل وقار اسلم، صدر ویمن ونگ مہوش فضل، ممبر بی او جی عبدالمجید، شہزاد چوہدری، ساجد خان اور مادھو لعل حسین سمیت دیگر کالم نگار شامل تھے۔