وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں بہبودِ آبادی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان، خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور آبادی سے متعلق قومی سطح کی پالیسی سازی کے لیے کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر مرتب کیا جائے۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وہ خود نیشنل پاپولیشن کونسل کی سربراہی کریں گے، جب کہ کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔

اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات سے منسلک کیا جائے گا، جب کہ خواتین کی تعلیم اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا آبادی پر قابو پانے کی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہوگا۔ اس کے علاوہ آبادی میں توازن اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے مؤثر عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی۔

بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران سمیت متعدد اسلامی ممالک میں آبادی پر قابو پانے کے کامیاب پروگرام نافذ کیے جا چکے ہیں۔ نیشنل پاپولیشن کونسل صوبائی حکومتوں کے تعاون سے قومی سطح پر مؤثر اقدامات اور آگاہی مہمات چلانے میں معاون ثابت ہوگی، جبکہ کونسل کا سیکریٹریٹ وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت قائم کیا جائے گا۔

اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔