سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی آبی صورتحال، سیلابی خطرات اور آبی ذخائر سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا نے دریاؤں پر تجاوزات کے 227 مقامات کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے صرف 18 مقامات کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی جا سکی ہیں، جب کہ پنجاب نے 2 ہزار 737 مقامات پر تجاوزات رپورٹ کی ہیں۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے سیلاب کی پیش گوئی اور دریاؤں کے بہتر انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ دریائے چناب پر آبی ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے خصوصی اجلاس بلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے تناظر میں مستقبل کے آبی منصوبوں اور قومی آبی سلامتی کا جائزہ لینے کے لیے انڈس واٹر کمشنر، وزارت خارجہ، عالمی بینک، این ڈی ایم اے اور فیڈرل فلڈ کمیشن کے حکام کو بھی طلب کیا جائے۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی خلیل طاہر نے دریائے راوی میں تجاوزات کے معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال سیلاب سے اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا۔ اس پر چیف انجینئر پنجاب نے بتایا کہ دریائے راوی کے کنارے قائم آبادیاں ہٹا دی گئی ہیں۔

اس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ کمیٹی کو درست معلومات فراہم کی جائیں اور اگر حقائق چھپائے گئے یا غلط معلومات دی گئیں تو معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

چیئرمین واپڈا محمد سعید نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے اور آبی تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربیلا اور منگلا کے بعد ملک میں کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا، جب کہ انڈیا اس عرصے میں پانچ ہزار ڈیم بنا چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ اس وقت بند ہے اور اس سے متعلق مختلف انکوائریاں جاری ہیں، تاہم امید ہے کہ مارچ 2028 تک منصوبہ دوبارہ فعال کر دیا جائے گا۔

محمد سعید نے مزید بتایا کہ سندھ میں نئی گاج ڈیم کا منصوبہ عدالتی کارروائی کے باعث رکا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس ڈیم کی تکمیل سے دادو اور سیہون میں سیلابی خطرات میں کمی آئے گی اور 28 ہزار ایکڑ اراضی قابلِ کاشت بن سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئی گاج ڈیم پر اب تک 23 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، تاہم منصوبے کے کنٹریکٹر کی جانب سے جعلی بینک گارنٹی جمع کرانے پر اس کا معاہدہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔