بدل دو نظام کے حوالے سے اٹک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئےحافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ قائدِاعظم محمد علی جناحؒ چاہتے تھے کہ برصغیر پر صدیوں سے مسلط انگریز کے نظام کا خاتمہ کیا جائے اور غلامی کی زنجیروں سے نجات حاصل کی جائے، مگر بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد بھی وہی نظام جوں کا توں چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھیننے کے بعد آہستہ آہستہ ہندوؤں کو مسلمانوں پر غالب کرنا شروع کیا اور اسی ملی بھگت کے نتیجے میں مسلمان سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر نظرانداز ہوتے چلے گئے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کشمیر کے مسلمان آج بھی قربانیاں دے رہے ہیں، جب کہ ہمیں وہ پاکستان اس کی اصل روح کے مطابق نہیں مل سکا، جس کا تصور قائداعظم نے پیش کیا تھا۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ پاکستان کا اصل مقصد نظام کی تبدیلی تھا، ایسا نظام جو اسلام کے نام پر دی گئی قربانیوں کے مطابق ہو، جہاں عدل و انصاف قائم ہو، سب کو تعلیم، روزگار اور تحفظ میسر ہو اور کسی کی عزت پامال نہ کی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک میں وڈیرہ شاہی، سرداری نظام اور جاگیردارانہ اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے تاکہ معاشرے میں حقیقی مساوات قائم ہو سکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں ماضی کی طرح آج بھی طاقت کے ذریعے سوسائٹی کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تو بن گیا، مگر قائداعظم کی آنکھیں بند ہوتے ہی مخصوص طبقات نے اس پر قبضہ کر لیا، یہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے نظام کی خرابی کا نتیجہ ہے۔
بیوروکریسی کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ گریجویشن کے بعد امتحانات پاس کر کے بیوروکریٹس کو ایسی تربیت دی جاتی ہے جس میں انہیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ انگریز کا بنایا ہوا نظام ہی چلانا ہے اور اسی سوچ کے تحت آج بھی ملک چلایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصل مقصد نظام کی تبدیلی تھا، ایسا نظام جو اسلام کے نام پر دی گئی قربانیوں کے مطابق ہو، جہاں عدل و انصاف قائم ہو، سب کو تعلیم، روزگار اور تحفظ میسر ہو اور کسی کی عزت پامال نہ کی جائے۔
لازمی پڑھیں: پی ٹی آئی نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ سول، ملٹری اسٹیبلشمنٹ انگریز کا دیا گیا نظام چلا رہی ہے، بیوروکریسی اپنے آپ کو عوام کا خادم نہیں آقا تصور کرتی ہے، سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرتی ہیں۔
انہوں نے ملک میں چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے، آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین ہے، طاقتوروں سے کہنا چاہتا ہوں غداری کے سرٹیفکیٹ تقیسم کرنا چھوڑ دیں۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ فارم سنتالیس کی اسمبلیوں نے جمہوریت دشمن بلدیاتی قانون پاس کیا، بلدیاتی کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں، اس پر پندرہ جنوری کو عوامی ریفرنڈم ہوگا، آئی پی پیز مافیا کے خلاف بھی نئے سرے سے منظم تحریک کا آغاز کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر پر حق خودارادیت کے بغیر کوئی ثالثی قبول نہیں، انڈیا مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا، افغانستان انڈیا سے امیدیں نہ لگائے۔ افغانستان ، پاکستان امن کے لیے بات چیت کریں، مسلمان ممالک میں جنگ قبول نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج کسی صورت غزہ نہیں جانی چاہیے، وزیراعظم شہباز شریف ٹرمپ کی خوشامد کی بجائے قوم کی ترجمانی کریں۔





