کراچی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہئیں تاکہ اہل اور باصلاحیت افراد کو آگے آنے کا موقع مل سک، اساتذہ کو ان کی قابلیت، تجربے اور کارکردگی کے مطابق مقام اور سہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام سے مختلف مدات میں ٹیکس وصول کرتی ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے اور تعلیم سمیت دیگر اہم شعبوں میں عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرے، کسی بھی طبقے، خصوصاً اساتذہ کے ساتھ ناانصافی یا غیر مساوی سلوک قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
مفتاح اسماعیل نے اساتذہ کو بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کئی حصوں میں اساتذہ کو مہینوں تک اپنی تنخواہوں کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف افسوسناک بلکہ تعلیمی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ہے،مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو بروقت تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی تعلیم کو اہمیت دیتی ہے تو اس شعبے کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور تعلیمی اداروں کی بہتری، جدید سہولیات کی فراہمی، تحقیق اور تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے، تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل ملک کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی کا نیا استحقاق قانون آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے، اختیار ولی
عوام پاکستان پارٹی کے رہنما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی تشکیل میں اساتذہ، ماہرین تعلیم، تعلیمی اداروں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ حلقوں کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق مؤثر اور قابل عمل فیصلے کیے جا سکیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کا دارومدار ایک مضبوط، جدید اور معیاری تعلیمی نظام پر ہے، اگر ملک کو ترقی یافتہ ریاستوں کی صف میں شامل کرنا ہے تو تعلیم، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہوگا۔






