حافظ نعیم الرحمان نے حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے مزدوروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے نے پورے ملک کو غمزدہ کر دیا ہےاور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔
امیر جماعت اسلامی نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ کوئلہ کان میں پھنسے تمام مزدوروں تک جلد از جلد رسائی کو یقینی بنایا جائے اور ریسکیو آپریشن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدور انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد اور کان کنی کے نظام کی مؤثر نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: کوئلے کی کان میں دھماکا، 14 کان کن جاں بحق، متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے، ریسکیو آپریشن جاری
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایسے افسوسناک واقعات کے بعد صرف تعزیتی بیانات جاری کرنا کافی نہیں، بلکہ حکومت کو اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے کان کنی کے شعبے میں حفاظتی معیار کو بہتر بنانا ہوگا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے اس حادثے کی شفاف تحقیقات کریں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی سامنے آئے تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید پڑھیں: 7 اگست کو پٹرول قیمتوں کے خلاف احتجاج ہوگا، نوجوان موٹرسائیکلیں سڑکوں پر لائیں: حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مزدوروں کے لیے محفوظ کام کا ماحول فراہم کرنے، جدید حفاظتی سہولیات کی فراہمی اور کانوں کے باقاعدہ معائنے کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے سانحات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
امیر جماعت اسلامی نےمزید کہا کہ مزدوروں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن عملی اقدامات کیے جانے چاہییں تاکہ محنت کش طبقہ خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔







