قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ اور خارجہ پالیسی پراظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مالی نظم و ضبط، قومی ترقی اور معاشی بحالی کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی ہے، صوبائی حکومتوں نے قومی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق کا بھرپور ساتھ دیا، جس سے ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے ریونیو وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ مالی منصوبہ بندی 13 ہزار 350 ارب روپے کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔ اضافی مالی وسائل کو قومی اہمیت کے منصوبوں، آبی ذخائر، بنیادی ڈھانچے، دفاعی ضروریات اور عوامی فلاح و بہبود کے مختلف شعبوں پر خرچ کیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں پانی کے منصوبوں، قومی سلامتی، توانائی اور دفاعی شعبے کو خصوصی اہمیت دی ہے، بدلتے ہوئے علاقائی حالات اور مستقبل کے چیلنجز کے پیش نظر بعض شعبوں کے لیے اضافی وسائل مختص کیے گئے ہیں تاکہ قومی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ معاشی استحکام کے حصول کے لیے صرف وفاقی حکومت کی کوششیں کافی نہیں ہوتیں بلکہ صوبوں، اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون بھی ناگزیر ہوتا ہے، ٹیم ورک، باہمی اعتماد اور مشترکہ پالیسی سازی ہی معاشی کامیابی کی ضمانت ہیں۔
اپنی تقریر کے دوران نائب وزیراعظم نے خارجہ پالیسی اور حالیہ علاقائی صورتحال پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی، ایران اور امریکا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ابتدا ہی سے مذاکرات، سفارتکاری اور تحمل کی پالیسی کی حمایت کی اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کشیدگی میں کمی اور سیزفائر کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی رابطے جاری رہے۔ پاکستان نے ایران، امریکا، قطر اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مسلسل مشاورت کی اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق اعلیٰ سطح پر متعدد مذاکراتی ادوار منعقد ہوئے جن میں چھ باضابطہ راؤنڈز بھی شامل تھے۔ بعض نشستیں کئی کئی گھنٹے جاری رہیں اور رات بھر ہونے والی مشاورت کے ذریعے مختلف نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں غیرجانبداری، رازداری اور سفارتی اصولوں کو مقدم رکھا۔ وزارت خارجہ، سیکیورٹی اداروں، عسکری قیادت اور دیگر متعلقہ حکام نے مربوط انداز میں کام کیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی اس عمل کی مسلسل نگرانی کرتے رہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے مختلف عالمی رہنماؤں اور اہم بین الاقوامی شخصیات کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔ جی-7 اجلاس کے موقع پر بھی اہم سفارتی مشاورت ہوئی جس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملی۔
انہوں نے کہا کہ 18 جون کی رات مذاکراتی عمل میں اہم پیشرفت سامنے آئی جبکہ 19 جون کو بعض معاملات کو حتمی شکل دی گئی۔ بعدازاں مختلف سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی مشاورت کے ذریعے فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان، قطر، ایران اور امریکا کے درمیان مسلسل رابطے قائم رہے اور چار فریقی سفارتی مشاورت کے ذریعے امن عمل کو آگے بڑھایا گیا، قطر نے بھی اس سلسلے میں نہایت مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا اور مختلف تجاویز کو قابلِ عمل شکل دینے میں معاونت فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ 22 جون کو جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں مستقبل کے لائحہ عمل اور امن عمل کے مختلف پہلوؤں کا تعین کیا گیا۔ یہ اعلامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔
مزید پڑھیں: آئینی ترمیم سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، بلاول بھٹو زرداری
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا قرار دینے کا تاثر حالیہ سفارتی کامیابیوں نے غلط ثابت کر دیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے دو متحارب فریقوں کو مذاکرات کی طرف راغب کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا، کئی دہائیوں بعد سامنے آنے والی یہ اہم سفارتی پیشرفت خطے کے امن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے اس کامیابی کا سہرا 24 کروڑ پاکستانی عوام، قومی قیادت، پاک فوج، وزارت خارجہ اور سفارتی ٹیم کی مشترکہ کاوشوں کو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آج قومی مفاد، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے اصولوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے مختلف عالمی فورمز پر نہایت فعال کردار ادا کیا ہے اور عالمی برادری کے سامنے اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے،اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی امن، ترقی اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور ذمہ دارانہ کردار جاری رکھے گا۔






