پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق  حادثے کے بعد ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور مقامی رضاکار سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندان سیر و تفریح کے لیے کالام آیا تھا اور جھیل سیف اللہ میں کشتی کی سیر کر رہا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد سوار تھے، جبکہ بعض ابتدائی رپورٹس میں ملاح سمیت مجموعی طور پر 9 افراد کے سوار ہونے کا بھی ذکر کیا گیا۔ حادثے کے بعد ملاح کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا، جب کہ 7 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور ایک فرد کی تلاش جاری ہے۔

ڈی پی او سوات محمد عمر خان کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں مہوڈنڈ کے مقام پر منتقل کی گئیں، جب کہ لاپتہ شخص کی تلاش کے لیے ریسکیو 1122، پولیس اور مقامی رضاکار مسلسل سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔

واقعے پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ لاپتہ شخص کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں اور سیاحتی مقامات پر کشتی رانی کے حفاظتی قواعد پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بھی حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اس مشکل وقت میں لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے گلیشیئر پھٹنے، اچانک سیلاب اور آبی مقامات پر خطرناک صورتحال کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت بھی کر رکھی ہے۔