سوات کے بالائی علاقوں میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور خیبرپختونخوا پولیس کے مشترکہ سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار اور ویلیج ڈیفنس کمیٹی کے 4 ارکان شہید ہوگئے، جبکہ 6 دہشت گرد مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے، جنہیں ان کے ساتھی اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق شہداء میں ویلیج ڈیفنس کمیٹی کے ارکان عمر حیات، گل زیب، محمد کریم اور اختر زیب شامل ہیں، جبکہ پولیس اہلکار گلفام بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہداء کی میتیں ضروری کارروائی کے بعد آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کی جائیں گی۔
ادھر ضلع ہنگو میں خزینہ بانڈہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی پی او ہنگو طارق حبیب کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ ڈی ایس پی دیار خان سمیت 5 پولیس اہلکار شہید اور ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 8 اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق حملے کے بعد اضافی نفری پر بھی راستے میں فائرنگ کی گئی، جس سے ایک بکتر بند گاڑی کو نقصان پہنچا، جبکہ ڈی پی او ہنگو کی گاڑی بھی فائرنگ کی زد میں آئی، تاہم وہ محفوظ رہے۔ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
دوسری جانب شمالی وزیرستان کے علاقے تپی بنگش خیل میں ایک مسجد پر نامعلوم سمت سے آنے والے کواڈ کاپٹر حملے میں ایک شہری جاں بحق ہوگیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ادھر کوہاٹ کے علاقے لاچی کے گاؤں درملک ہرناتو میں مسجد ابوبکر میں دھماکے سے مسجد کے دو کمرے منہدم ہوگئے، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور دیگر رہنماؤں نے ہنگو میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔






