اسلام آباد میں "سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ" کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور علاقائی استحکام کی ایک اہم بنیاد ہے، جس نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف چیلنجز کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی نشست صرف ایک بین الاقوامی معاہدے پر گفتگو تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی بقا، ترقی اور آبی سلامتی سے وابستہ ایک انتہائی اہم موضوع کا احاطہ کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ اور اس سے وابستہ آبی نظام صدیوں سے اس خطے کی تہذیب، ثقافت اور معیشت کا مرکز رہے ہیں، جبکہ وادی سندھ کی عظیم تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زندگی، خوراک، زراعت اور قومی معیشت کی بنیاد ہے، ملک کا زرعی شعبہ دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتا ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار براہ راست انہی آبی وسائل سے وابستہ ہے، اس لیے پانی کے معاملے کو قومی سلامتی کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی سفارت کاری کی ایک اہم مثال سمجھا جاتا ہے، جس نے مختلف ادوار میں دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر فریم ورک فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اس معاہدے پر دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ عمل کیا ہے اور ہر موقع پر مذاکرات، بین الاقوامی قانون اور پرامن حل کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت متعدد مواقع پر واضح کر چکی ہے کہ دریائے سندھ کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی معاہدوں کے تحت تسلیم شدہ ہے اور اس حق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر متاثر کرنے یا اس کی روح کے خلاف اقدامات نہ صرف عالمی قوانین بلکہ ریاستوں کے درمیان اعتماد کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کا احترام صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاہدے عالمی نظام میں اعتماد، تعاون اور ذمہ داری کی علامت ہوتے ہیں، اس لیے ان کی پاسداری ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گلگت بلتستان کے برفانی علاقوں سے نکلنے والا دریائے سندھ خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ سے گزرتے ہوئے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے اور کروڑوں شہریوں کی زندگی کا انحصار اسی آبی نظام پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی پاکستان کے لیے صرف قدرتی اثاثہ نہیں بلکہ قومی بقا، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کا بنیادی ستون ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، عطا اللہ تارڑ
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بھی اس امر کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کیا جائے اور آبی وسائل کو سیاسی دباؤ یا تنازعات کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریق بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔
عطا اللہ تارڑ نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے عوام کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی، قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار رہنا چاہیے کیونکہ یہی معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن، علاقائی استحکام، باہمی اعتماد اور آبی تعاون کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی پانی کے منصفانہ استعمال، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کے اصولوں پر قائم رہے گا اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔






